کینیڈا کے بعد برطانیہ ٹرمپ کے نشانے پر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا ان کے لیے ’انتہائی خطرناک‘ ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان برطانیہ اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کیے گئے ان معاہدوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کا اعلان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اپنے دورہ چین کے تیسرے روز اس وقت شنگھائی میں موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ وہ چینی صدر کوبہت قریب سے جانتے ہیں۔
برطانیہ کے کاروباری امور کے وزیر سر کرس برائنٹ نے ٹرمپ کے بیان کو ’غلط‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ عالمی منظرنامے پر چین کی موجودگی کو نظرانداز کرنا برطانیہ کے لیے سراسر حماقت ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یقیناً ہم چین کے ساتھ تعلقات میں پوری آگاہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ٹرمپ کے ریمارکس پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈائوننگ سٹریٹ نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن کو اس دورے اور اس کے مقاصد کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کینیڈا کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کینیڈا کے لیے مزید زیادہ خطرناک ہے۔ کینیڈا کی حالت اچھی نہیں، وہ بہت خراب کارکردگی دکھا رہا ہے اور آپ چین کو اس کا حل نہیں سمجھ سکتے۔
یاد رہے کہ اسی ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ حالیہ معاشی معاہدوں پر عمل کیا تو اس پر محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ معاہدے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے بیجنگ کے حالیہ دورے کے دوران طے پائے تھے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کینیڈا کے کے ساتھ چین کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔