ٹرمپ کی کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک کو ٹیرف کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کیے جس میں کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس سے کمیونسٹ حکومت کے زیرِ قیادت جزیرے پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکم نامے میں ٹیرف کی قیمت یا اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ تعین انہوں نے اپنے سیکریٹری تجارت پر چھوڑ دیا ہے۔کیوبا جو 1962 ء سے بہت حد تک امریکی پابندیوں کے تحت رہا ہے، حال ہی میں اپنا زیادہ تر تیل وینزویلا سے حاصل کرتا ہے۔لیکن ہوانا کے اہم اتحادی نکولاس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر مؤثر طریقے سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکا نے اسے روک دیا ہے۔وینزویلا کارروائی کے بعد ٹرمپ نے کیوبا جانے والا تیل اور کرنسی مکمل طور پر بند کرنے کا عزم کیا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دھمکی دی کہ کیوبا جلد معاہدہ کرے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اس معاملے پر خاموش ہے کہ وہ جزیرے کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کس قسم کے معاہدے کا خواہاں ہے۔ ہوانا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگز نے جمعرات کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں تازہ ترین پیش رفت کو کیوبا اور اس کے عوام کے خلاف جارحیت کا وحشیانہ اقدام قرار دیا جو 65 سال سے زائد عرصے سے مسلط کردہ طویل ترین اور ظالمانہ اقتصادی ناکہ بندی کا شکار ہیں۔ امریکی صدر کے حکم نامے میں کسی بھی ایسے ملک پر اضافی محصولات کی دھمکی دی گئی ہے جو کیوبا کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تیل فروخت کرے یا کسی اور صورت میں فراہم کرے۔ حکم نامے میں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) نافذ کیا گیا اور کیوبا کی حکومت کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ آئی ای ای پی اے کے نافذ کردہ دیگر محصولات کو فی الحال سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔حکم نامے میں کہا گیاکہ کیوبا کئی دشمن ممالک، بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں اور امریکا مخالف عناصر کی حمایت کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز