data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کیے جس میں کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس سے کمیونسٹ حکومت کے زیرِ قیادت جزیرے پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکم نامے میں ٹیرف کی قیمت یا اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ تعین انہوں نے اپنے سیکریٹری تجارت پر چھوڑ دیا ہے۔کیوبا جو 1962 ء سے بہت حد تک امریکی پابندیوں کے تحت رہا ہے، حال ہی میں اپنا زیادہ تر تیل وینزویلا سے حاصل کرتا ہے۔لیکن ہوانا کے اہم اتحادی نکولاس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر مؤثر طریقے سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکا نے اسے روک دیا ہے۔وینزویلا کارروائی کے بعد ٹرمپ نے کیوبا جانے والا تیل اور کرنسی مکمل طور پر بند کرنے کا عزم کیا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دھمکی دی کہ کیوبا جلد معاہدہ کرے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اس معاملے پر خاموش ہے کہ وہ جزیرے کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ کس قسم کے معاہدے کا خواہاں ہے۔ ہوانا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگز نے جمعرات کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں تازہ ترین پیش رفت کو کیوبا اور اس کے عوام کے خلاف جارحیت کا وحشیانہ اقدام قرار دیا جو 65 سال سے زائد عرصے سے مسلط کردہ طویل ترین اور ظالمانہ اقتصادی ناکہ بندی کا شکار ہیں۔ امریکی صدر کے حکم نامے میں کسی بھی ایسے ملک پر اضافی محصولات کی دھمکی دی گئی ہے جو کیوبا کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تیل فروخت کرے یا کسی اور صورت میں فراہم کرے۔ حکم نامے میں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) نافذ کیا گیا اور کیوبا کی حکومت کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ آئی ای ای پی اے کے نافذ کردہ دیگر محصولات کو فی الحال سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔حکم نامے میں کہا گیاکہ کیوبا کئی دشمن ممالک، بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں اور امریکا مخالف عناصر کی حمایت کرتا ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا