وزیراعظم کا صنعتوں کیلیے بجلی سستی کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-18
اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی سستی کرنے کا اعلان کردیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک کے معروف ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنا اور پیداوار کو فروغ دینا ہے۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کا بنیادی کردار خود کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، اس لیے حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو سہولت ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو اب گروتھ کی جانب لے جانا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کو اہمیت دی جائے گی۔ وزیراعظم کے مطابق تاجر اور صنعتکار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر بہتر معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی پالیسیوں کی تیاری میں تاجر برادری سے مشاورت کو یقینی بنائے گی تاکہ فیصلے زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اعتماد اور مسلسل رابطے کے ذریعے معیشت کو درست سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھریگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے حکومت اور فوج کی شراکت داری کو ملک کے لیے بہترین قرار دیا۔انہوں نے کہا معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے، دنیا آپ کی بات مان رہی ہے، سرمایہ کاری کے لیے رابطے کررہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدد نہ ہوتی تو کئی مسائل حل نہیں ہو سکتے تھے، حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دینا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھریگا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترقی کرے گا تو بھارت کو بھی غشی کے دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا تگڑا ملک کیسے بن گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا،پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، برآمد کنندگان نے انتہائی مشکل حالات میں ایکسپورٹ میں اضافہ کیا، تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز ہمارے سر کا تاج ہیں،صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کرکے تگڑے فیصلے کریں، رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، میڈیم اور اسمال لیول کے انٹرپنیور کا ہاتھ پکڑنا پڑے گا،نوازشریف نے پرائیوٹ سیکٹر کیلیے جو اقدامات کیے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023 میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا اس وقت نیا اسٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارادوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہوچکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکا کے صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں۔وزیراعظم نے کہاکہ میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرورعملدرآمد کریں گے، جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا آپ کیلیے شارٹ ٹرم پروگرام دے رے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی، پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے نقصانات برداشت کیے۔وزیراعظم نے کہاکہ آج پاکستانی معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں۔شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلیے دوست ممالک سے درخواستیں کیں، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سرہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کیے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہماری معیشت میں استحکام آچکا لیکن یہ کافی نہیں، آج پاکستان میں مہنگائی اوربیروزگاری بڑھ گئی ہے، آج کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پرآیا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، کمیٹیزچیئرمین کیلیے پرائیوٹ سیکٹرز سے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا، دنیا میں کہیں بھی گورنمنٹ بزنس نہیں کرتی، جہاں گورنمنٹ بزنس کرے وہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کاروبار کرنا پرائیوٹ سیکٹر کا کام ہے۔انہوںنے کہاکہ آج دوست ممالک پاکستانی پاسپورٹ کو اہمیت دیتے ہیں، فیلڈمارشل کے ساتھ مختلف ممالک کی دعوت پر دورے کر رہا ہوں، جو ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے تھے وہ آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیر ہوتے ہیں، جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کیا ان کو بلیو پاسپورٹ دیں گے، بلیوپاسپورٹ کی مدت 2 سال ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری انتہائی شفاف طریقے سے ہوئی، میری خاص ہدایات پر پی آئی اے کی نجکاری ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی گئی، عارف حبیب انتہائی قابل احترام سرمایہ کار ہیں، اللہ عارف حبیب کو کامیاب کرے۔وزیراعظم نے کہاکہ دنیا میں پی آئی اے کو دوبارہ اسی طرح متعارف کرایا جائے گا، پی آئی اے کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کا دنیا میں سفر لائق تحسین ہے، عارف حبیب گروپ کو پی آئی اے کے حوالے سے حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہوگی، عارف حبیب گروپ کو کہوں گا مسافروں کو ورلڈکلاس سروس ملنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ایم ڈی ا ئی ایم ایف وزیراعظم نے کہا شہباز شریف نے انہوں نے کہا پالیسی ریٹ کہ پاکستان پی ا ئی اے نے کہا کہ دنیا میں فیصلے کر نے کہاکہ کہ حکومت سری لنکا کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔