ہائیکورٹ ‘سانحہ گل پلازہ کمیشن کیلیے حکومت سے شرائط طلب
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کی تجویز کا معاملہ چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ نے کمیشن کے قیام سے قبل صوبائی حکومت سے شرائطِ کار طلب کرلیے۔ سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ داخلہ، حکومتِ سندھ کے خط کے جواب میں مراسلہ جاری کیا جس میں ہدایت کی گئی کہ محکمہ داخلہ ابتدائی مرحلے میں شرائط کار فراہم کریں حکومت کی جانب سے پیش کردہ شرائط کے بعد کمیشن پر غور کا فیصلہ کیا جائے گا، مراسلہ رجسٹرار، سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ علاوہ ازیں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں آتشزدگی کے مقدمے کی ابتدائی رپورٹ پولیس نے عدالت میں جمع کروا دی۔ رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی گئی، جس میں کہا گیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال میں 17 جنوری کی شب اگ لگی تھی، آگ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور کی دکان نیوتوکل فلاور اینڈ گفٹ شاہ میں لگی،اس آتشزدگی کے نتیجے میں کے 71 سے زاید افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہیں ، جانی و مالی نقصانات حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث پیش آئے، فائر سیفٹی کے آلات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انتظامات موجود نہیں تھے، خارجی اور داخلی راستے بھی بند تھے، سانحہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا ، بجلی بند ہونے کے باعث بھی لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مقدمہ میں مزید تفتیش کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، عدالت نے رپوٹ کو کورٹ ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔