Jasarat News:
2026-07-24@02:13:56 GMT

جینے دو کراچی کو

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260131-03-3
کراچی طویل عرصے سے حکمرانوںکی بے حسی اور متعصبانہ سلوک کا شکار ہے۔ آج لاوارث بن چکا ہے۔ وفاق اور سندھ حکومت نے کراچی کو تعصب اور لاتعلقی کی بھینٹ چڑھا کر اسے برباد کر دیا ہے۔ یہاں کے بچے کھلے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔ نوجوان خونی ٹرالروں، ٹینکروں، ڈمپروں کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔ یہاں کی تاجر برادری جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اربوں روپے کے وسائل ان ہی کی مرہون منت حاصل ہوتے ہیں لیکن سانحہ گل پلازہ نے تو پاکستان کے تاجروں کی کمر کی توڑ دی ہے اور جس طرح اس سانحہ میں تاجروں کا اربوں کھربوں روپے کا سامان خاکستر ہوا اور 80 کے قریب تاجر اور اس پلازہ میں کام کرنے اور خریداری کرنے والے افراد جل کر جاں بحق ہوئے اس نے تو پوری قوم کو افسردہ کردیا ہے۔ کراچی کی سڑکیں موہن جو دڑو کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سندھ حکومت ای چالان کے ذریعے کراچی کے شہریوں سے ہزاروں روپے کے چالان تو وصول کر رہی ہے لیکن وہ اس شہر کا انفرا اسٹرکچر اور سڑکیں تعمیر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ساڑھے تین کروڑ کے شہر جو کہ منی پاکستان کی حیثیت رکھتا ہے لیکن افسوس کہ اس شہر میں نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی سیوریج کا کوئی بہتر سسٹم، اس شہر میں ٹرانسپورٹ ناپید ہے اور خواتین بچے نوجوان بزرگ سب چنگ چی رکشوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ ڈبل ڈیکر صرف پانچ بسیں چلائی گئی تو اس کے افتتاح کے موقع پر پوری سندھ کابینہ موجود تھی۔ کراچی جیسے شہر کو کم از کم دس ہزار بسوں کی ضرورت ہے لیکن سندھ حکومت نے پیپلز بس سروس کے نام پر صرف 200 کے قریب بسیں چلائی ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔

کراچی کے نوجوانوں پر روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند کردیے گئے ہیں اور اب کراچی کے ڈومیسائل پر وزراء، حکومتی ارکان اور افسران کے رشتے داروں کی بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ کراچی کا پڑھا لکھا اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوان مایوس ہوکر بیرون ملک جانے پر مجبور ہے یا پھر وہ فوڈ پانڈا، رائیڈر یا چنگ چی رکشے چلانے پر مجبور ہے اور ایسے میں نفرت کی سیاست کو عروج حاصل ہورہا ہے۔ ایم کیو ایم جو 1986سے اس شہر پر قابض ہے اور ہر دور میں یہ اقتدار میں موجود رہی ہے۔ کراچی کے بدترین حالات کی ذمے دار پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم بھی ہے۔ ایم کیو ایم والے آج الگ صوبے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کیے جانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ آج تک وفاق نے کراچی کو اس کا حق نہیں دیا کراچی کی تباہی بربادی میں یہ سب شامل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اور سیاہ سفید کے مالک تھے لیکن اس کے باوجود یہ اپنے نعروں پر ہی عمل درآمد نہیں کراسکے اور ظالم کوٹا سسٹم آج تک کراچی کے شہریوں کا استحصال کر رہا ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تو کراچی کے شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے اور کراچی کے مظلوم شہری وفاق اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی نالائقی اور متعصبانہ سلوک پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت سانحہ گل پلازہ پر اپنی غلطی اور کوتاہی قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ میئر کراچی اس سانحہ پر مستعفی ہونے کے بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بے غیرتی کا طوق گلے میں ڈال کر فوٹو سیشن کے سوا کوئی اور کام نہیں کر رہے بلکہ اپنے الٹے سیدھے بیانات سے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین اور لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب جس جعلی طریقے سے میئر بنے ان سے اس ہی قسم کی توقعات کی جاسکتی ہے۔

کراچی کے عوام آج بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ایسے میں جماعت اسلامی کراچی نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں حق دو کراچی مہم چلا کر کراچی کے عوام کے دلوں کو جیتا ہے۔ اور حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کی بھینٹ چڑھنے والے گل پلازہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی ایک بار پھر میدان میں نکل آئی ہے، وہ سانحہ گل پلازہ پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے تحت اتوار یکم فروری کو شاہراہِ فیصل پر ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اب کراچی کسی ظلم وستم پر خاموش نہیں رہے گا۔ کراچی کے عوام کو ان کا قانونی اور جائزحق دینا ہوگا۔ اہل ِ کراچی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں حکمرانوں کو کراچی کے عوام کے ساتھ اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا۔ کراچی اب کروٹ لے رہا ہے۔ کراچی کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکمرانوں کوکراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے ہوں گے۔ کراچی کے ساتھ متعصبانہ سلوک اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور کراچی کے حقوق کے لیے پوری قوت کے ساتھ آواز بلند کی جائے گی۔

قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنایا تھا لیکن ایوب خان نے دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرکے کراچی کے عوام کی پیٹ میں چھرا گھونپا اور کراچی کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرنے سے کراچی میں جو تباہی شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور کراچی بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اگر حکمرانوں نے کراچی کو اس کا جائز حق نہیں دیا تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ بات ہوگی کیوںکہ کراچی کی تباہی وبربادی پاکستان کی تباہی وبربادی کے مترادف ہے۔ پاکستان کی مقتدر قوتوں کو اب ہوش کے ناخن لینا چاہیے اور کراچی کے ساتھ ظلم و ستم اور متعصبانہ سلوک ختم کرکے کراچی کو اس کا جائزحق دیا جائے۔ کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مترادف ہے۔ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان کو ایشین ٹائیگر بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ متعصبانہ سلوک کراچی کے عوام جماعت اسلامی نے کراچی کو پاکستان کی سندھ حکومت اور کراچی کراچی کی کے ساتھ رہے ہیں ہے اور کر رہے کے شہر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا