Jasarat News:
2026-06-02@22:37:19 GMT

جینے دو کراچی کو

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260131-03-3
کراچی طویل عرصے سے حکمرانوںکی بے حسی اور متعصبانہ سلوک کا شکار ہے۔ آج لاوارث بن چکا ہے۔ وفاق اور سندھ حکومت نے کراچی کو تعصب اور لاتعلقی کی بھینٹ چڑھا کر اسے برباد کر دیا ہے۔ یہاں کے بچے کھلے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔ نوجوان خونی ٹرالروں، ٹینکروں، ڈمپروں کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔ یہاں کی تاجر برادری جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اربوں روپے کے وسائل ان ہی کی مرہون منت حاصل ہوتے ہیں لیکن سانحہ گل پلازہ نے تو پاکستان کے تاجروں کی کمر کی توڑ دی ہے اور جس طرح اس سانحہ میں تاجروں کا اربوں کھربوں روپے کا سامان خاکستر ہوا اور 80 کے قریب تاجر اور اس پلازہ میں کام کرنے اور خریداری کرنے والے افراد جل کر جاں بحق ہوئے اس نے تو پوری قوم کو افسردہ کردیا ہے۔ کراچی کی سڑکیں موہن جو دڑو کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سندھ حکومت ای چالان کے ذریعے کراچی کے شہریوں سے ہزاروں روپے کے چالان تو وصول کر رہی ہے لیکن وہ اس شہر کا انفرا اسٹرکچر اور سڑکیں تعمیر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ساڑھے تین کروڑ کے شہر جو کہ منی پاکستان کی حیثیت رکھتا ہے لیکن افسوس کہ اس شہر میں نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی سیوریج کا کوئی بہتر سسٹم، اس شہر میں ٹرانسپورٹ ناپید ہے اور خواتین بچے نوجوان بزرگ سب چنگ چی رکشوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ ڈبل ڈیکر صرف پانچ بسیں چلائی گئی تو اس کے افتتاح کے موقع پر پوری سندھ کابینہ موجود تھی۔ کراچی جیسے شہر کو کم از کم دس ہزار بسوں کی ضرورت ہے لیکن سندھ حکومت نے پیپلز بس سروس کے نام پر صرف 200 کے قریب بسیں چلائی ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔

کراچی کے نوجوانوں پر روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند کردیے گئے ہیں اور اب کراچی کے ڈومیسائل پر وزراء، حکومتی ارکان اور افسران کے رشتے داروں کی بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ کراچی کا پڑھا لکھا اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوان مایوس ہوکر بیرون ملک جانے پر مجبور ہے یا پھر وہ فوڈ پانڈا، رائیڈر یا چنگ چی رکشے چلانے پر مجبور ہے اور ایسے میں نفرت کی سیاست کو عروج حاصل ہورہا ہے۔ ایم کیو ایم جو 1986سے اس شہر پر قابض ہے اور ہر دور میں یہ اقتدار میں موجود رہی ہے۔ کراچی کے بدترین حالات کی ذمے دار پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم بھی ہے۔ ایم کیو ایم والے آج الگ صوبے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کیے جانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ آج تک وفاق نے کراچی کو اس کا حق نہیں دیا کراچی کی تباہی بربادی میں یہ سب شامل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اور سیاہ سفید کے مالک تھے لیکن اس کے باوجود یہ اپنے نعروں پر ہی عمل درآمد نہیں کراسکے اور ظالم کوٹا سسٹم آج تک کراچی کے شہریوں کا استحصال کر رہا ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تو کراچی کے شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے اور کراچی کے مظلوم شہری وفاق اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی نالائقی اور متعصبانہ سلوک پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت سانحہ گل پلازہ پر اپنی غلطی اور کوتاہی قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ میئر کراچی اس سانحہ پر مستعفی ہونے کے بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بے غیرتی کا طوق گلے میں ڈال کر فوٹو سیشن کے سوا کوئی اور کام نہیں کر رہے بلکہ اپنے الٹے سیدھے بیانات سے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین اور لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب جس جعلی طریقے سے میئر بنے ان سے اس ہی قسم کی توقعات کی جاسکتی ہے۔

کراچی کے عوام آج بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ایسے میں جماعت اسلامی کراچی نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں حق دو کراچی مہم چلا کر کراچی کے عوام کے دلوں کو جیتا ہے۔ اور حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کی بھینٹ چڑھنے والے گل پلازہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی ایک بار پھر میدان میں نکل آئی ہے، وہ سانحہ گل پلازہ پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے تحت اتوار یکم فروری کو شاہراہِ فیصل پر ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اب کراچی کسی ظلم وستم پر خاموش نہیں رہے گا۔ کراچی کے عوام کو ان کا قانونی اور جائزحق دینا ہوگا۔ اہل ِ کراچی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں حکمرانوں کو کراچی کے عوام کے ساتھ اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا۔ کراچی اب کروٹ لے رہا ہے۔ کراچی کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکمرانوں کوکراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے ہوں گے۔ کراچی کے ساتھ متعصبانہ سلوک اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور کراچی کے حقوق کے لیے پوری قوت کے ساتھ آواز بلند کی جائے گی۔

قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنایا تھا لیکن ایوب خان نے دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرکے کراچی کے عوام کی پیٹ میں چھرا گھونپا اور کراچی کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرنے سے کراچی میں جو تباہی شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور کراچی بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اگر حکمرانوں نے کراچی کو اس کا جائز حق نہیں دیا تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ بات ہوگی کیوںکہ کراچی کی تباہی وبربادی پاکستان کی تباہی وبربادی کے مترادف ہے۔ پاکستان کی مقتدر قوتوں کو اب ہوش کے ناخن لینا چاہیے اور کراچی کے ساتھ ظلم و ستم اور متعصبانہ سلوک ختم کرکے کراچی کو اس کا جائزحق دیا جائے۔ کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مترادف ہے۔ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان کو ایشین ٹائیگر بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ متعصبانہ سلوک کراچی کے عوام جماعت اسلامی نے کراچی کو پاکستان کی سندھ حکومت اور کراچی کراچی کی کے ساتھ رہے ہیں ہے اور کر رہے کے شہر

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے