data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-03-7
کراچی میں عمارتیں نہیں گرتیں، ریاست گرتی ہے۔ یہ جملہ محض ایک شاعرانہ یا جذباتی بیان نہیں، بلکہ گل پلازہ سے لے کر شاہراہِ فیصل تک پھیلے ہوئے اْس کرب کی سیاسی انتظامی تشریح ہے جو اِس شہر کے رہائشی روزانہ جھیلتے ہیں۔ جب کراچی میں کوئی عمارت زمین بوس ہوتی ہے تو ملبے تلے صرف انسانی لاشیں نہیں دبتیں، بلکہ حکمرانی کے اجتماعی ضمیر کی موت، قانون کی دھجیاں، اور انسانی جان کی وقعت کا جنازہ بھی نکالا جاتا ہے۔ گل پلازہ کا المناک سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا ’’حادثہ‘‘ نہیں تھا، بلکہ ایک بے رحم اعلان تھا اس تلخ سچ کا اعلان کہ کراچی کو گزشتہ سترہ برسوں سے ایک منظم، مربوط اور بے رحم انداز میں مارا جا رہا ہے۔ یہ قتل بندوقوں یا بمباروں سے نہیں ہو رہا؛ یہ قتل فائلوں، غیر قانونی نقشوں، رشوت کے نوٹوں، خاموش دستخطوں، اور مجرمانہ چشم پوشی کے ہتھیاروں سے انجام پا رہا ہے۔ خون بم سے نہیں، بلکہ ایسے نظام سے بہایا جا رہا ہے جس میں انسانی زندگی کا وزن کاغذ کے ایک ٹکڑے سے بھی کم ہے۔
کراچی گزشتہ دو دہائیوں سے ایک ایسے نظام کے آہنی شکنجے میں ہے جہاں شہری منصوبہ بندی محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (بی سی اے) کا محاورہ اپنے لغوی معنی کھو چکا ہے۔ یہ ادارہ، جو عوام کی حفاظت کا محافظ ہونا چاہیے تھا، درحقیقت بلڈرز اور زمین مافیا کی سیاسی سرپرستی میں ڈھل چکا ہے۔ نقشے قانون کے تقاضوں کے مطابق نہیں، بلکہ ’’نرخ‘‘ کی ترازو پر تول کر منظور ہوتے ہیں۔ پارکنگ کی جگہیں، جو شہری سہولت اور حفاظت کا بنیادی تقاضا ہیں، ’’تعمیراتی رقبے‘‘ کے نام پر قربان کر دی جاتی ہیں۔ فائر سیفٹی کے نام پر کاغذات پر چند شرائط درج ہوتی ہیں، مگر عملاً یہ شرائط عمارتوں کی دیواروں میں کہیں موجود نہیں ہوتیں۔ جب کوئی عمارت گرتی ہے، تو افسران کی معطلی کا ایک مختصر تماشا ہوتا ہے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں، میڈیا میں ہلچل مچتی ہے۔ مگر چند ہفتوں یا مہینوں بعد، سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ سزا کا سوال تو دور، احتساب کا عمل بھی ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست اپنے بنیادی معاہدے، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، سے غداری کرتی دکھائی دیتی ہے اور اپنا اخلاقی، قانونی جواز کھو بیٹھتی ہے۔
کراچی میں موجودہ نظام کو’’بلڈنگ کنٹرول‘‘ کہنا لفظوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ درحقیقت ’’بلڈر کنٹرول‘‘ کا ایک تکمیلی نظام ہے۔ اس نظام میں یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں عمارت کی تعمیر سے لے کر اس کے مکینوں کے بسائے جانے تک، بے شمار ہاتھ شریک ِ جرم ہوتے ہیں۔ نقشہ منظور کرنے والا افسر، رشوت لینے والا انسپکٹر، معیار سے سمجھوتا کرنے والا کنٹریکٹر، اور خاموش رہنے والا مقامی نمائندہ سب ہی اس ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ مگر جب یہی ڈھانچہ گرتا ہے، تو یہی لوگ اچانک ’’لاعلم‘‘ ہو جاتے ہیں، اپنی ذمے داریاں دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، اور فائلوں کے جنگل میں کھو جاتے ہیں۔
انصاف کے نام پر کمیٹیوں اور رپورٹوں کا قبرستان: ہر المناک واقعے کے بعد ایک یکساں ڈراما دہرایا جاتا ہے۔ اعلیٰ سطحی تحقیقی کمیشن یا کمیٹی کا قیام، ابتدائی جوش و خروش، میڈیا بریفنگ اور پھر… خاموشی۔ رپورٹیں تیار ہوتی ہیں، مگر ان کے نتائج پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ نہ کسی بڑے بیوروکریٹ کی ذمے داری طے ہوتی ہے، نہ کسی سیاسی سرپرست کا نام سامنے آتا ہے، نہ ہی زمین یا تعمیرات مافیا کے کسی بڑے نام کو عدالت کے کٹہرے میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ محض ناانصافی نہیں، بلکہ انصاف کے مقدس تصور کا کھلا مذاق ہے۔ یہ نظام شہریوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت اور دولت کے سامنے تمہاری جان کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ ایک دردناک تضاد ہے۔ یہ شہر صاف پانی کو ترستا ہے، ٹوٹی پھٹی سڑکوں پر چلتا ہے، ناکام عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم میں روزانہ جسمانی اور ذہنی اذیت جھیلتا ہے، اور کچرے کے اونچے پہاڑوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
یہ محض ’’انتظامی نااہلی‘‘ کا معاملہ نہیں۔ نااہلی غیر ارادی ہوتی ہے۔ کراچی کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک منظم، دانستہ اور مسلسل ہے۔ یہ محرومی نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند ناانصافی ہے۔ یہ شہر کے وسائل پر قبضہ جمانے والے مفادات کا استحصال ہے، جس میں عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ کر ان کی توانائی صرف بقا کی جنگ میں صرف ہونے پر مجبور کر دیا جاتی ہے۔ ایسے میں جب روایتی سیاسی جماعتیں یا تو اس نظام کا حصہ بن چکی ہیں یا پھر اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں، جماعت اسلامی واحد بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آتی ہے جس نے کراچی کو محض ایک انتخابی حلقہ یا ووٹ بینک نہیں سمجھا۔ اس کے لیے کراچی ایک زندہ، سانس لیتا وجود ہے جسے جینے کا حق حاصل ہے۔ ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک ہو، پانی، بجلی، صفائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل پر مسلسل جدوجہد ہو، یا عدالتی سطح پر شہری حقوق کی وکالت ہو، یہ سب اسی وژن کا حصہ ہیں۔ یہ سیاست اقتدار کی کرسی کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ شہر اور اس کے باشندوں کی بقا اور عزت کے لیے ہے۔
’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ خاموشی توڑنے کا وقت: اب سوال یہ نہیں کہ کراچی کے مسائل ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ان مسائل کے سامنے کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ ہر نئی لاش، ہر نئے ملبے کے بعد کیا ہم صرف ماتم کریں گے اور پھر اگلے سانحے کا انتظار کریں گے؟ اس خاموشی، اس بے حسی، اور اس مجبوری کو توڑنے کے لیے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے ایک واضح اور پرعزم اعلان کیا گیا ہے: ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘۔ یہ مارچ محض ایک احتجاجی ریلی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اعلانِ بغاوت ہے۔ یہ اعلان ہے کہ اب enough is enough۔ یہ اعلان ہے کہ شہری اپنی منزلت، اپنی زندگی اور اپنے شہر کا تحفظ خود کرنے کے لیے میدان میں اتر رہے ہیں۔ تاریخ: 01 فروری 2026 وقت: دوپہر 3 بجے مقام: شاہراہِ فیصل، کراچی خصوصی خطاب: حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی پاکستان۔ یہ مارچ کسی ایک جماعت، طبقے یا علاقے کا نہیں ہے۔ یہ ہر اس کراچی والے کا مارچ ہے جو اپنے بچے کو اسکول بھیجتے وقت خوفزدہ رہتا ہے، جو اپنے گھر کی چھت پر سوتے ہوئے اگلے زلزلے کا خوف محسوس کرتا ہے، جو لفٹ میں سفر کرتے ہوئے اپنی زندگی کی فکر کرتا ہے۔ یہ ہر اس ماں، باپ، بیٹے اور بیٹی کا مارچ ہے جو اپنے پیاروں کو ملبے میں دفن ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔
کراچی کے عوام سے ایک آخری سوال: کیا ہم اگلی تباہی، اگلے سانحے، اگلے قتل ِ عام کا انتظار کریں گے؟ یا پھر ہم یکم فروری کو شاہراہِ فیصل پر اکٹھے ہو کر ایک ایسی آواز بلند کریں گے جو حکمرانوں کے ایوانوں کی بنیادیں ہلا دے؟ ایک ایسا پیغام دیں گے جو واضح ہو: ’’اب بہت ہو چکا۔ کراچی کو جینے دو!‘‘ یہ مارچ نفرت، انتقام یا تخریب کے لیے نہیں ہے۔ یہ مارچ زندگی، تعمیر، انصاف اور احترامِ انسانی کے لیے ہے۔ یہ مارچ اس خواب کے لیے ہے کہ کراچی ایک محفوظ، خوشحال اور منصفانہ شہر بن سکے۔ اور اگر آج، اس نازک موڑ پر، ہم اپنی آواز بلند کرنے، اپنے وجود کا اعلان کرنے سے بھی گریز کریں، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
میر بابر مشتاق
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کو محض ایک جاتا ہے کریں گے یہ مارچ سے ایک کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس