گرین شرٹس چمچماتی ٹرافی گھر پر ہی رکھنے کیلیے بے چین ، آج دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں فتح درکار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
لاہور:
گرین شرٹس چمچماتی ٹرافی گھر پر ہی رکھنے کیلیے بے چین ہیں، آسٹریلیا کیخلاف سیریز جیتنے کا سنہری موقع مل گیا، ہفتے کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں فتح درکار ہوگی، قذافی اسٹیڈیم لاہور ایک بار پھر شائقین سے کھچا کھچ بھرنے کی توقع ہے، صائم ایوب امیدوں کا محور ہوں گے، ابرار احمد، شاداب خان اور محمد نواز بھی ایک بار پھر اسپن بولنگ کا جادو جگانے کے لیے تیار ہیں، کپتان سلمان علی آغا ون ڈائون پوزیشن پر تیز کھیل پیش کرنے کے لیے پر امید دکھائی دیتے ہیں، ایک بار پھر مہمان سائیڈ کو اسپن جال میں پھنسانے کا پلان بنا لیا ہے، پلئینگ الیون میں بعض تبدیلیوں پر بھی غور ہونے لگا، کینگروز سیریز برابر کرنے کا عزم لیے میدان میں اتریں گے، دوسرے مقابلے کے لیے بھی سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دی تھی، اب ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہی ٹیم ٹرافی پر قبضہ یقینی بنانے کا عزم لیے حصہ لے گی،جمعرات کو میزبان ٹیم کو شاندار اسپن بولنگ نے فتح دلائی،بولرز نے حریف بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا، نہ صرف رنز کی رفتار پر بریک لگائی بلکہ اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔
دوسرے میچ میں بھی پچ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، خشک اور سلو پچ سے اسپن بولرز کو مدد ملے گی،اس کا فائدہ وہی ٹیم اٹھائے گی جو اسپن کو بہتر انداز میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، پاکستان کا آغاز اچھا تھا مگر پھر مڈل اور لوئرآرڈر بیٹرز تیزی سے رنز نہیں بنا سکے تھے، اب بیٹنگ لائن سے زیادہ بہتر کھیل کی توقع ہے، ٹیم مینجمنٹ بعض تبدیلیوں پر بھی غور کر رہی ہے، شاہین آفریدی کی جگہ نسیم شاہ کو میدان میں اتارنے پر غور ہونے لگا۔
مزید پڑھیںپہلا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا فاتحانہ آغاز، آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست
پی سی بی کا پاک آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے کمنٹری پینل کا اعلان
دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم کے لیے ہفتے کا میچ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، سیریز میں واپسی کے لیے ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی، خاص طور پر اسپن بولنگ کے خلاف حکمت عملی کو موثر بنانا ضروری ہے، پہلے ٹی ٹوئنٹی میں صائم ایوب نے جارحانہ بیٹنگ کے بعد عمدہ بولنگ سے فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب پھر ان سے ویسے ہی کھیل کی توقع ہے۔
کپتان سلمان علی آغا نے ون ڈائون پوزیشن کو مستقل طور پر اپنا لیا ہے، وہ جارحانہ بیٹنگ کی کوشش کریں گے، شاداب خان اور محمد نواز بھی ایک بار پھر اسپن بولنگ کا جادو جگانے کے لیے تیار ہیں، آسٹریلوی ٹیم بھی سیریز برابر کرنے کا عزم لیے میدان میں اترے گی، اسپنر ایڈم زیمپا سے ایک بار پھر عمدہ کارکردگی کی توقع ہے،بیٹرز کو اسپنرز کا مقابلہ ڈٹ کر کرنا ہوگا، پہلے میچ کی طرح ہفتے کو بھی اسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔
سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، قذافی اسٹیڈیم اور اطراف کے علاقوں میں اضافی پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے سخت چیکنگ کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک بار پھر اسپن بولنگ کی توقع ہے ٹی ٹوئنٹی کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔