نیا مغربی موسمی سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایران کے راستے ایک اور مغربی موسمی سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہوگیا۔
کوئٹہ، چمن، قلعہ عبداللّٰہ، سرانان، جنگل پیر علی زئی، گلستان اور پشین میں بارش جبکہ کوژک ٹاپ، شیلا باغ اور لوئی بند سمیت بالائی علاقوں میں برف باری شروع ہوگئی۔
کئی علاقوں میں پچھلی برف باری سے بند رابطہ سڑکیں اب تک بحال نہیں ہوسکیں، سڑکوں کی بحالی کے لیے آپریشن جاری ہے۔
این ڈی ایم اے نے آج سے چار فروری تک پنجاب، خیبر پختونخوا میں بھی بارش اور برف باری کی پیش گوئی کی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔