لاہور:

ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا مگر معاشی چیلنجز عفریت کی شکل اختیار کر چکے ہیں، دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 سے 65 فیصد ہے، زیادہ پیداواری لاگت، مہنگی بجلی، زائد ٹیکسیشن، ضرورت سے زائد قوانین اور پالیسی مسائل کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، بڑی صنعت بند ہو رہی۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے ’’ملکی معاشی صورتحال‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیئے، ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ذکی اعجاز نے کہا کہ ہماری پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، بجلی مہنگی ہے، پاکستان میں صنعت کو ساڑھے 12 سینٹ فی یونٹ مل رہی ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں 8 سینٹ اور سری لنکا میں 6 سینٹ ہے، افسوس ہے کہ ملک کی انڈسٹری ختم ہورہی ہے۔



کاروباری برادری کیلیے خوشخبری؛ وزیراعظم کا صنعتوں کیلیے بجلی سستی کرنے کا اعلان



بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی کا امکان

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں شدید بے روزگاری کا خطرہ ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 یس 65 فیصد ہے، سابق ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ دو برس قبل حکومت کی گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا پلان کیا، اس پالیسی کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

 اب حکومت نے ڈھائی ملین ٹن گندم نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گندم کو مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے، امپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں کی اجازت ہونی چاہیے، شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا ہوگا۔

 ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر مبشر منور خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسائل ہیں جو آج تک ٹھیک نہیں ہوئے، ہماری بیوروکریسی کی معیشت کے حوالے سے نہ ٹریننگ ہے اور نہ ہی کپیسٹی، معیشت کو بیوروکریسی کے اختیار سے نکال کر ماہرین کے حوالے کرنا ہوگا، توانائی کے ریٹ میں کمی لائی جائے ۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی