میر واعظ کا مساجد کی پروفائلنگ، کشمیریوں پر حملوں پر اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق میر واعظ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں مساجد، آئمہ کرام اور انتظامی کمیٹیوں کے بارے میں بلاجواز معلومات طلب کی جا رہی ہیں جو ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی پولیس کی طرف سے مساجد کی پروفائلنگ اور بھارتی شہروں میں کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں مساجد، آئمہ کرام اور انتظامی کمیٹیوں کے بارے میں بلاجواز معلومات طلب کی جا رہی ہیں جو ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ بے جا عمل فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ میر واعظِ محمد عمر فاروق نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران ہریانہ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور دیگر بھارتی ریاستو ں میں کشمیری طلباء اور تاجروں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آئے ہیں جو کشمیریوں کے تئیں دشمنی کے پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں کے مہینوں میں ہزاروں کشمیری محنت کش روزی کمانے کے لیے مختلف بھارتی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں جن کے ساتھ بہیمانہ برتاﺅ ان کے اہلخانہ کیلئے نہایت اضطراب کا باعث ہے۔
میر واعظ نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور جموں و کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ میر واعظ نے کہا کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ دہلی کے دوران جمعیت علمائے ہند کے مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی سمیت معروف مسلم قائدین اور علما،سے ملاقات کی اور انہیں کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ میر واعظ نے مزید کہا کہ متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) جلد ہی ایک اجلاس بلائے گی جس میں مساجد کی پروفائلنگ اور بھارتی شہروں میں کشمیریوں کو درپیش مشکلات کے معاملے پر غور و خوض کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مذموم عمل بند نہ کیا گیا تو اجتماعی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میر واعظ نے انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ