بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی 2کاررائیاں ،بھارتی حمایت یافتہ 41 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-17
راولپنڈی (نمائندہ جسارت /خبرایجنسیاں) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے 2 مختلف آپریشنز میں بھارتی حمایت یافتہ 41 دہشت گرد مارے گئے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کافورسز کو خراچ تحسین۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 29 جنوری 2026 کو بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ 2 الگ الگ آپریشنز کیے گئے۔ پہلا آپریشن ضلع ہرنائی میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 30 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ دوسرا آپریشن ضلع پنجگور میں کیا گیا جہاں فتنہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد مارے گئے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں ہونے والی بینک ڈکیتی سے لوٹی گئی رقم بھی برآمد ہوئی ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ “عزمِ استحکام” کے وڑن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔صدر مملکت نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز کو ریاست کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی قرار دیتے ہوئے 41 دہشت گردوں کی ہلاکت پر فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے خلاف کارروائیاں امن و استحکام تک جاری رہیں گی، جبکہ وزیراعظم نے عزمِ استحکام کے تحت حاصل ہونے والی ان کامیابیوں کو پوری قوم کی فتح قرار دیا۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملانے پر فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ان فتنوں کا عبرتناک انجام یقینی بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔