آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی مشقیں، غیر محفوظ اقدام ناقابلِ برداشت ہوگا: امریکی سینٹکام کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مجوزہ بحری مشقوں کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا غیر محفوظ اقدام ناقابلِ برداشت ہوگا۔ سینٹکام کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھانے والی کسی بھی سرگرمی کا سخت جواب دیا جا سکتا ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو اپنی بحری مشقیں مکمل طور پر پیشہ ورانہ انداز میں، بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور عالمی بحری ٹریفک کی آزادی کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دینی چاہئیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایرانی فورسز کی جانب سے غیر محفوظ مشقیں، بے ضابطہ کارروائیاں یا امریکی طیارہ بردار جہازوں کے قریب خطرناک آپریشنز کیے گئے تو امریکی فوج اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ امریکی فوج اپنے اہلکاروں، بحری جہازوں اور طیاروں کی سلامتی کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی خطرناک یا اشتعال انگیز عمل کی صورت میں فوری اور سخت ردعمل دیا جا سکتا ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی بحری مشقوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بین الاقوامی تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 100 سے زائد تجارتی جہاز گزرتے ہیں اور عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے۔
سینٹکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر محفوظ یا اشتعال انگیز اقدام سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ براہِ راست تصادم کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتائج پورے خطے اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔