منوڑہ کے قریب ڈوبنے والے چوتھے ماہی گیر کی لاش چرنا آئی لینڈ کے قریب سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
منوڑہ کے قریب سمندر میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں ڈوبنے والے چار ماہی گیروں میں سے چوتھے ماہی گیر کی لاش حادثے کے آٹھویں روز برآمد کر لی گئی، جس کے بعد سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے بحری رضاکاروں کے مطابق جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران چوتھے ماہی گیر کی لاش چرنا آئی لینڈ کے قریب سمندر سے ملی۔ لاش کی برآمدگی کے بعد امدادی سرگرمیاں ختم کر دی گئیں۔
ایدھی حکام نے بتایا کہ حادثے میں جان بحق ہونے والے ماہی گیروں میں 30 سالہ ہارون ولد سلیم، 35 سالہ محمد حسین ولد رحمان، 35 سالہ علاؤالدین ولد امیر اسلام اور 29 سالہ حمید حسین ولد امیر حسین شامل ہیں۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ 23 جنوری کو منوڑہ کے قریب پیش آیا تھا، جب ماہی گیروں کی کشتی حادثے کا شکار ہو گئی۔ واقعے کے فوراً بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے بحری رضاکاروں نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا تھا، جو کئی دنوں تک جاری رہا۔
ایدھی حکام کے مطابق چوتھے ماہی گیر کی لاش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا جائے گا۔ حادثے نے ساحلی علاقوں میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے اور ماہی گیر برادری میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔