پاکستان کی معدنی برآمدات میں شاندار اضافہ، معاشی استحکام کی جانب فیصلہ کن پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان کا معدنی شعبہ قومی خوشحالی اور معاشی خود کفالت کا محور بن گیا۔
پاکستان کے معدنی شعبہ نے عالمی صنعتی سپلائی چین میں مضبوط مقام حاصل کرلیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے چین کو معدنی برآمدات میں 2025 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پاکستان سے تانبے اور تانبے سے بنی مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر 1.
ایلومینیم خام کی برآمدات میں 4700 فیصد اضافہ ہوا جس کی بدولت برآمدات 14.16 ملین ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ گئیں، چین کو زنک کی برآمدات 110.90 ملین ڈالر اور کرومائٹ کی برآمدات 89.43 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
چین کی صنعتی ترقی اور گرین انرجی منصوبوں میں پاکستان کے معدنی وسائل کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، حال ہی میں پاکستان چین معدنی تعاون فورم میں دونوں ممالک نے باہمی صلاحیتوں سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات اور سی پیک کے بہتر لاجسٹکس نظام نے برآمدات کو زیادہ قابلِ اعتماد اور مؤثر بنایا، پاکستان ویلیو ایڈیشن اور پراسیسنگ کے بعد معدنی برآمدات کو 3 سے 4 ارب ڈالر تک بڑھانے کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے پاکستان کی معدنی برآمدات مزید مستحکم اور وسیع بنیادوں پر استوار ہو چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معدنی برآمدات کی برآمدات
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔