اسلام آباد (طارق محمود سمیر) پاکستان کے معدنی شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جسے ماہرین معاشی استحکام اور خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی (SIFC) کی مؤثر سہولت کاری اور اصلاحاتی وژن کے باعث معدنی شعبہ اب قومی خوشحالی کا ایک مضبوط ستون بنتا جا رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی وسائل نے عالمی صنعتی سپلائی چین میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ خاص طور پر 2025 کے دوران چین کو پاکستانی معدنی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کا واضح ثبوت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے تانبا اور تانبا مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر 1.

14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح ایلومینیم خام کی برآمدات میں 4700 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ برآمدات 14.16 ملین ڈالر کی بلند سطح تک جا پہنچیں۔ چین کو زنک کی برآمدات 110.90 ملین ڈالر جبکہ کرومائٹ کی برآمدات 89.43 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
چین کی تیز رفتار صنعتی ترقی اور گرین انرجی منصوبوں میں پاکستان کے معدنی وسائل کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ پاکستان۔چین معدنی تعاون فورم میں دونوں ممالک نے معدنی شعبے میں باہمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات اور سی پیک کے بہتر لاجسٹکس نظام نے پاکستانی معدنی برآمدات کو زیادہ قابلِ اعتماد، تیز اور مؤثر بنا دیا ہے۔ ویلیو ایڈیشن اور مقامی پراسیسنگ کو فروغ دے کر پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ معدنی برآمدات کو 3 سے 4 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکے۔
مجموعی طور پر ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری نے پاکستان کی معدنی برآمدات کو نہ صرف مستحکم کیا ہے بلکہ انہیں وسیع بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے ملکی معیشت کے لیے ایک روشن اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کر دی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی معدنی برا مدات کی برا مدات

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی