اسلام ٹائمز: وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اپنے ایرانی ہم منصبوں سے رابطہ اس طرف واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو ختم کرانے کی کوششوں میں ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد سے باوثوق ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا ہے کہ پاکستان امریکہ سے براہ راست اس معاملہ میں رابطہ میں ہے اور تمام تر صورتحال سے پاکستان میں متعین ایرانی سفیر کو مسلسل آگاہ کیا جارہا ہے، جس کا اظہار رضا امیری نے میڈیا سے اپنی گفتگو میں بھی کیا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

امریکہ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کسی صورت بھی عالمی امن، بالخصوص خطہ کیلئے نقصان دہ ہے۔ تہران میں ناکام ہونے والی امریکی و صیہونی رجیم چینج منصوبہ کی ناکامی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ دباو بڑھانے کی کوششوں میں ہے۔ امریکی بحری بیڑے کی ایرانی سرحدوں کیجانب بڑھنے کے بعد آج امریکی صدر ایک مرتبہ پھر ’’بیک فٹ‘‘ پر آتے ہوئے نیا پتہ کھیلنے کی کوشش کی۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کے کردار پر بھی عالمی ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایران میں ہونے والے فسادات کے آخری ایام میں پاکستان میں متعین ایرانی سفیر خاصے متحرک نظر آئے۔ اسلام آباد سے باوثوق ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ حالات کو نارمل کیا جائے، خطہ میں کسی قسم کی کشیدگی اسلام آباد کیلئے بھی قابل قبول نہیں، خاص طور پر ایران پر امریکہ کی کسی قسم کی بھی جارحیت کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

ایسی صورتحال میں وزیراعظم شہبازشریف نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔میڈیا کو جاری تفصیلات کے مطابق اس اہم گفتگو میں پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی قریبی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کے تحت اعلیٰ سطح روابط اور باہمی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

ٹیلی فونک رابطہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ایران پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادلوں کے بارے میں بتایا کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے سفارتی حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں،ہماری نظر میں مشرق وسطیٰ کا خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے خطے کی اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام بڑی طرح متاثر ہوگا۔ ہم اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔ 

پاکستان میں متعین ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں پاکستانی میڈیا کے اجتماع میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں ایران پر حملے کی طاقت نہیں ہے اور فوجی دکھاوے محض توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ایران کبھی طاقت کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے 12 روزہ مسلط جنگ سے پہلے ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیا جہاں امریکہ نے مذاکراتی میز چھوڑ کر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی صلح کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ تعلقات اچھے ہیں اور یقین ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی جارحیت میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن متوازن مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، ملک کی صورتحال معمول پر ہے اور غیر ملکیوں کے لیے محفوظ ہے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اپنے ایرانی ہم منصبوں سے رابطہ اس طرف واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو ختم کرانے کی کوششوں میں ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد سے باوثوق ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا ہے کہ پاکستان امریکہ سے براہ راست اس معاملہ میں رابطہ میں ہے اور تمام تر صورتحال سے پاکستان میں متعین ایرانی سفیر کو مسلسل آگاہ کیا جارہا ہے، جس کا اظہار رضا امیری نے میڈیا سے اپنی گفتگو میں بھی کیا۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ کشیدگی کو کم کرنا چاہتی ہے، ایک طرف چین اور روس کا واضح پیغام اور دوسری جانب سعودی عرب اور یو اے ای سمیت خطہ میں موجود امریکی اتحادی مسلم ممالک کی جانب سے ایران کیخلاف استعمال نہ ہونے کا اعلان واشنگٹن کیلئے مزید مشکلات کا باعث بنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان میں متعین ایران ہے کہ پاکستان میں پاکستان اسلام ٹائمز اسلام ا باد کی کوششوں نے اسلام انہوں نے ہے اور میں ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران