پشاور ہائیکورٹ: دوران ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازم کا بیٹا ملازمت کا حقدار قرار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بینچ نے دوران ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازم کے بیٹے روشن علی خان کو ملازمت کا حق دار قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس صابت اللہ خان نے پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کالج چترال کے خلاف مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مرحوم حبیب اللہ خان کے بیٹے روشن علی خان اپنے والد کی جگہ ملازمت کا حق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقوم بٹورنے میں ملوث خاتون گرفتار
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2024 میں ملازمت کے کوٹہ کا قانون غیر آئینی قرار دیا ہے، لہٰذا مدعا علیہ کے حق میں ماتحت عدالت کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔
تاہم، روشن علی خان کے وکیل نیاز احمد نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے 2021 میں فیصلہ دیا تھا، اور اس وقت کوٹہ کا قانون موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ ماضی کے فیصلوں پر لاگو نہیں ہوتا، اور انہوں نے مقدمہ زاہدہ پروین بمقابلہ حکومت خیبر پختونخوا (17.
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ نوکری کرنے والوں کو حکومت نے خوشخبری سنا دی
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کالج کی اپیل خارج کر دی اور روشن علی خان کو قانونی حقدار قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم قانونی تشریح پر مبنی ہے اور اسے کیس لاز رولنگ آف پاکستان نے سوشل میڈیا پر نمایاں کوریج کے ساتھ رپورٹ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بینچ سرکاری ملازم کا بیٹا ملازمت ملازمت کا حقدار قرار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بینچ سرکاری ملازم کا بیٹا ملازمت ملازمت کا حقدار قرار روشن علی خان ملازمت کا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔