انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کی آئیکونک پرفارمنسز کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ کے آئیکونک پرفارمرز میں سابق پاکستانی جارح مزاج آل راؤنڈر شاہد آفریدی بھی شامل ہیں۔

شاہد آفریدی کا نام 2009 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں آل راؤنڈ پرفارمنس پر نام شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیمی فائنل میں میں 51 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے ساتھ ساتھ 2 اہم وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

شاہد آفریدی نے فائنل میں سری لنکا کے خلاف بھی 54 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کو عالمی چیمپئن بنوایا تھا۔

اس کے علاوہ آئی سی سی کی جانب سے 2007 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پہلے ایڈیشن میں یووراج سنگھ کے 6 گیندوں پر 6 چھکوں کو آئیکونک پرفارمنس قرار دیا گیا۔

2010 میں آسٹریلیا کے مائیک ہسی کی پاکستان کے خلاف 24 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز آئیکونک پرفارمنس میں شامل ہے۔

2012 میں ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن کی 9 رنز کے عوض 3 وکٹیں آئیکونک پرفارمنس قرار دی گئی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2014 کے سیمی فائنل میں سری لنکا کے رنگانا ہیراتھ کی 5 وکٹیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2016 میں کارلوس براتھویٹ کے فائنل اوور میں بین اسٹوکس کو 4 مسلسل چھکوں کو آئیکونک پرفارمنس میں شامل کیا گیا ہے۔

2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ فائنل میں مچل مارش کی 77 رنز کی اننگز اور 2022 میں انگلینڈ کے بین اسٹوکس کی پاکستان کےخلاف 52 رنز کی اننگز بھی آئیکونک پرفارمنس قرار دی گئی ہے۔

2024 کے ورلڈکپ فائنل میں وارت کوہلی کی 76 رنز کی شانداراننگز کو آئیکونک پرفارمنس قرار دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئیکونک پرفارمنس قرار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ رنز کی اننگز شاہد آفریدی فائنل میں

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم