ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں بڑا شارٹ فال درپیش، بینک ہفتے کو بھی کھلے رکھنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 7 ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی سامنے آنے کے بعد حکومت اور مالیاتی ادارے شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے اختتام تک مجموعی ٹیکس وصولیاں 7.15 کھرب روپے رہیں، جو نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 374 ارب روپے کم ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کو ہفتہ کے روز بھی کھلا رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سرکاری واجبات اور ٹیکس وصول کیے جا سکیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگرچہ رواں مالی سال کی ٹیکس وصولیاں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں، تاہم مقررہ اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ادارے کے مطابق صرف جنوری کے آخری دنوں میں سپر ٹیکس کی مد میں مزید 50 ارب روپے کی وصولی کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ کئی بڑی کمپنیاں اپنے بقایاجات جمع کرا رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود مجموعی سالانہ شارٹ فال 597 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اس تناظر میں واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام کمرشل بینک، بشمول نیشنل بینک کی کسٹمز کلیکشن برانچز، ہفتہ کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس، اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق 31 جنوری کو نِفٹ کے ذریعے سرکاری لین دین کی خصوصی کلیئرنگ کے لیے بینک ضرورت کے مطابق اضافی وقت تک بھی کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم خود ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق ابھی تک حکومتی دعوؤں کے مطابق نظر نہیں آ رہے۔ حال ہی میں آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے مقدمے میں حکومت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایف بی آر کو تقریباً 190 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی ہے، جسے حکومت ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایف بی آر کے مطابق ارب روپے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔