اسرائیلی فوج کاپہلی بار 71 ہزار فلسطینیوں کے قتل کا اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-15
تل ابیب /غزہ /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے پہلی بار غزہ جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار تسلیم کرلی ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز نے مانا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ کے دوران یہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتا رہا تھا، تاہم اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ تعداد صرف ان افراد پر مشتمل ہے جو براہِ راست فوجی کارروائی میں مارے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے لاپتہ افراد، بھوک یا بیماری سے ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 71,667 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 90 فیصد سے زاید کی شناخت نام اور شناختی نمبرز کے ذریعے ہو چکی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول اوروں کے برعکس میرا یقین ہے کہ حماس جلد ہی اسلحہ ڈالنے جا رہی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران دیا لیکن اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا یہاں تک کہ وہ اپنی اے کے 47 رائفلیں بھی حوالے کریں گے۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے بھی وقت نہیں بتایا۔ادھر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے انکشاف کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی پروگرام متعارف کرایا جائے گا جس میں ہتھیار پھینکنے والوں کو رقم، روزگار اور عام معافی دی جائے گی۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنگجوؤں کے لیے اسلحہ پھینک کر مالی فوائد لینے اور عام شہری جیسی زندگی گزارنے کا موقع دینے والا یہ منصوبہ کئی ماہ سے زیرِ غور ہے۔ عرب سفارتکاروں نے بھی بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ثالث ایک مرحلہ وار منصوبہ چاہتے ہیں جس میں حماس پہلے بھاری ہتھیار اور پھر ہلکے ہتھیار بھی حوالے کرکے غیر مسلح ہوجائے گا۔تاہم اسرائیل اس طریقہ کار سے متفق نہیں کیونکہ ہلکے ہتھیاروں کے ذریعے بھی حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل نے تقریباً سوا 2 سال سے غزہ پر مسلسل بمباری کے بعد بالآخر فلسطینیوں کا ایک دیرینہ مطالبہ مان لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا جو 2 برس سے بند تھی۔ تاہم رفح راہداری دوطرفہ کھول دینے کے باوجود یہاں سے امدادی سامان یا تجارت کی آمدو رفت کی اجازت نہیں ہوگی کیوں کہ اسرائیل سمجھتا ہے اس طرح اسلحہ کی ترسیل ہوسکتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 110ویں روز بھی جاری رکھا، جہاں شدید فائرنگ، توپ خانے کی گولہ باری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں مختلف محاذوں پر کی گئیں اس دوران 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی