عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
عالمی سطح پر نامور سیاسی و سکیورٹی تجزیہ کار مہند سلومی نے انکشاف کیا ہے کہ عراق میں بھارتی شہری اسرائیل کیلئے جاسوسی کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحہ یونیورسٹی میں سکیورٹی اسٹڈیز پروگرام کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جرنل آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر مہند سلومی نے قطر میں ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عراق میں بہت سارے بھارتی شہری اسرائیل کیلئے جاسوسی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 15 لاکھ کہ قریب بھارتی اسرائیل کیلئے جاسوسی کا کام کرتے ہیں۔ صحت اور عراقی فوج جیسے شعبوں میں بھی بھارتی جاسوس گھُسے ہوئے ہیں۔
مہند نے مزید بتایا کہ ان اداروں میں صفائی کرنے والے عملے تک اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ عراق بھارت کو دوست ملک سمجھتا ہے۔ مزید برآں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بھارت یہ گھناؤنا کام اسلحہ حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں اسرائیل نے پاکستان پر برتری حاصل کرنے کی متعدد کوشش کی لیکن پھر بھی وہ ناکام رہا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پیر کو متوقع، پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی ملتوی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پیر کو متوقع، پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی ملتوی بلوچستان: فورسز کی بروقت کارروائیاں، بی ایل اے کے حملے ناکام، کئی دہشت گرد جہنم واصل صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 2 فروری کو طلب کرلیا آئی سی سی آئی قیادت کا وزیر اعظم کی صنعتی اور برآمدی مراعات کا خیر مقدم اقوام متحدہ کا قبرص میں امن فورس کا مینڈیٹ ایک سال کے لیے توسیع، شمالی قبرص کی خواہشات نظرانداز جمہوریہ کانگو میں کان کے منہدم ہونے سے 200 سے زائد افراد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیل کیلئے جاسوسی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔