نوشہرہ میں مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق، 8 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد زخمیوں کو نوشہرہ میڈیکل کمپلیکس اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ نوشہرہ کے علاقے اضاخیل پایاں بھٹی کے مقام پر راج ولی نامی شخص کے مکان کی چھت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت گھر کے 9 افراد ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے نتیجے میں ایک سالہ بچی جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے، ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد زخمیوں کو نوشہرہ میڈیکل کمپلیکس اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت دعا (عمر 1 سال) کے نام سے ہوئی۔ زخمیوں میں راج ولی (عمر 35 سال)، ام بی بی (عمر 30 سال)، سلیمان (عمر 4 سال)، علی (عمر 11 سال)، ملالہ (عمر 8 سال)، ارمان علی (عمر 7 سال)، گلالئی (عمر 6 سال) اور ایمان (عمر 3 سال) شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔