45 ارب کا ٹیکس شارٹ فال, ٹیکس دفاتر آج کھلے رہیں گے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ماہ رواں میں 45 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے تمام ٹیکس دفاتر کو آج چھٹی کے دن بھی کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق مالی سال کے پہلے سات ماہ میں تقریباً پونے چار سو ارب روپے کی ریونیو کمی ہوئی ہے، جبکہ نظرثانی شدہ سالانہ ٹیکس ہدف 13,979 ارب روپے ہے۔ اس ہدف کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس حکام نے مکمل کوششیں شروع کر دی ہیں۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
آج کے روز تمام لارج ٹیکس پیئرز، میڈیم ٹیکس پیئرز اور کارپوریٹ ٹیکس دفاتر کھلے رہیں گے۔ ساتھ ہی ایف بی آر کے تمام علاقائی ٹیکس دفاتر اور ٹیکس و ڈیوٹیز وصولی کے لیے مجاز بینک برانچز بھی کھلی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ریونیو ہدف سے 239 ارب روپے کم ٹیکس وصول ہوا تھا۔ رواں ماہ 1,031 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 986 ارب روپے ٹیکس جمع ہو چکا ہے، اور توقع ہے کہ آج رات تک مزید تقریباً 40 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصولی ہو سکتی ہے۔
کوئٹہ: سریاب کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
ماہانہ ہدف کے علاوہ اگلے دو ماہ میں سپر ٹیکس کی مد میں بھی 200 ارب روپے کی وصولی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں آئی ایم ایف کو 9,917 ارب روپے ٹیکس وصولی کا وعدہ کیا گیا ہے، جبکہ مارچ تک مزید 20,765 ارب روپے ریونیو جمع کرنا باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹیکس دفاتر ارب روپے ماہ میں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔