مجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پشاور:
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی نے کہا ہے کہ مجھے اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
کے پی ہاؤس اسلام اباد میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ میں صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا منتخب وزیراعلیٰ ہوں لیکن مجھے اڈیالہ جیل کے باہر روڈ پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے، عمران خان کی صحت کے حوالے سے پوری قوم تشویش میں ہے اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت اس وقت کیسی ہے، عمران خان سے فیملی سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہ دینا نہ صرف غیر انسانی سلوک ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ موجودہ حکومت سے ملک نہیں چل رہا، عدلیہ سمیت تمام ادارے مفلوج ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے، عوام پریشان ہیں اور کسان رل رہا ہے، وفاق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک سنگین مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے، حکمرانوں کو ملک کی کوئی فکر نہیں، وفاق خیبر پختون خواہ کے بقایا جات کی ادائیگی نہ کرکے صوبے کو ترقی سے محروم کر رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کو بے بس کردیا گیا ہے، وفاق کے عدم تعاون کے باوجود صوبے میں ترقی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر شوکت یوسف زئی نے کہا کہ حکومت عوام سے خوفزدہ ہے، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا نہ صرف جیل مینول بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس اسپتال میں عمران خان کو رات کے اندھیرے میں لا کر علاج کا ڈرامہ رچایا گیا، اس اسپتال میں نواز شریف شہباز شریف یا مریم نواز اپنا علاج کرا لیں گے۔ حکومت وضاحت کرے کہ عمران خان کی بیماری اور ان کو رات کی تاریکی میں پمز لا کر علاج کرانے کی خبر کیوں خفیہ رکھی۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت نے عمران خان کی فیملی کو کیوں پیشگی اطلاع نہیں دی، موجودہ وزراء جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، اب انکی کسی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا، عمران خان کے معالجین ان کی فیملی، وزیراعلیٰ کے پی اور ان کے وکلا کو فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ قوم کو مطمئن کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں نے 8 فروری کے ممکنہ پُرامن احتجاج، عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی رویے سمیت قومی اور صوبائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، صوبائی مشیر اطلاعات شفیع جان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملاقات کی اجازت خیبر پختونخوا عمران خان کی نے کہا کہ
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔