گھریلو تشدد بل کی منظوری کے بعد بیوی کے ہاتھوں شوہر قتل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
راولپنڈی:
گھریلو تشدد بل کی منظوری کے بعد بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کا مقدمہ سامنے آ گیا۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں شوہر کو گولی مار کر قتل کرنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاریب نے 2 روز قبل گھریلو چپقلش کے باعث 12 بور رائفل سے فائرنگ کرکے اپنے 28 سالہ شوہر جواد حسین کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ افسوس ناک واقعہ گھریلو تشدد سے متعلق قانون کی منظوری کے تیسرے روز پیش آیا۔
پولیس کے مطابق مقتول جواد حسین کی ڈیڑھ سال قبل شادی ہوئی تھی۔ مقدمے کے مدعی شبیر حسین نے بیان دیا ہے کہ ملزمہ کا اپنے شوہر سے آئے روز جھگڑا رہتا تھا اور وہ شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ شوہر کو قتل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئی تھی، تاہم ٹیکسلا پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست خاتون کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں چالان کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔