پاک آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی میں بابر اعظم کے آؤٹ پر امپائرنگ متنازع ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے فیصلے نے میچ کے فوری بعد کرکٹ حلقوں میں شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شائقین کرکٹ، سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کو حیران کن قرار دیا، جب کہ سوشل میڈیا پر امپائرنگ کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب فیصلہ ریورس شاٹ کے دوران ایل بی ڈبلیو کے قانون سے جڑ گیا۔
میچ کے دوران بابر اعظم نے ایک گیند پر ریورس شاٹ کھیلنے کی کوشش کی اور گیند پیڈ سے ٹکرائی۔ گراؤنڈ امپائر نے فوری طور پر فیصلہ نہیں دیا، تاہم ڈی آر ایس کے ذریعے معاملہ تھرڈ امپائر کے پاس گیا۔ بال ٹریکنگ اور ری پلے کے مناظر سامنے آنے کے باوجود ٹی وی امپائر کے فیصلے نے شائقین کو الجھن میں مبتلا کر دیا۔
ابتدا میں یہ تاثر ملا کہ گیند آف سائیڈ پر پچ ہوئی ہے، لیکن بعد میں امپائر نے بابر اعظم کو آؤٹ قرار دے دیا۔
اس فیصلے کے بعد گراؤنڈ امپائر اور ٹی وی امپائر کے درمیان مختصر گفتگو بھی دیکھنے میں آئی، جس نے صورتحال کو مزید متنازع بنا دیا۔ اس پورے عمل کے دوران یہ سوال بار بار اٹھایا گیا کہ آیا ایل بی ڈبلیو کے قانون کا درست اطلاق کیا گیا یا نہیں۔ خاص طور پر اس بات پر بحث ہوئی کہ ریورس شاٹ کھیلتے وقت آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کا تعین کس بنیاد پر ہوتا ہے۔
کرکٹ قوانین کے مطابق ایل بی ڈبلیو کے فیصلے میں بلے باز کے اصل اسٹانس کو بنیاد بنایا جاتا ہے، یعنی وہ اسٹانس جو بولر کے رن اپ کے آغاز کے وقت موجود ہو۔ اگر کوئی بلے باز بعد میں اپنا اسٹانس بدل کر ریورس ہٹ یا ریورس سوئپ کھیلتا ہے تو آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کی نئی تعریف لاگو نہیں ہوتی۔ اسی قانون کے باعث کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کو آؤٹ دیا جانا تکنیکی طور پر درست ہو سکتا ہے، تاہم جس انداز میں فیصلہ کیا گیا، اس نے شفافیت پر سوال ضرور اٹھائے ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا نے بھی اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور امپائرنگ کے معیار پر تنقیدی تبصرے شائع کیے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں اس طرح کے ابہام نے بین الاقوامی کرکٹ میں امپائرنگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔