انکم ٹیکس چھاپے کے دوران معروف رئیل اسٹیٹ ٹائیکون کی مبینہ خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بھارتی شہر بنگلورو میں ایک بڑے رئیل اسٹیٹ گروپ کے سربراہ سی جے رائے اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کے دفتر میں محکمۂ انکم ٹیکس کی کارروائی جاری تھی۔
کانفیڈنٹ گروپ کے چیئرمین 57 سالہ سی جے رائے نے مبینہ طور پر اپنے ہی دفتر میں خود کو گولی مار لی۔ واقعے کے بعد پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے دفتر کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلورو پولیس کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس حکام کی موجودگی میں سی جے رائے نے یہ انتہائی قدم اٹھایا، جس کے بعد فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ تین دن سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سی جے رائے اور ان سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف چھاپے مار رہا تھا، جن کے دوران مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے سامنے آئے۔ یہی پس منظر اس واقعے کو مزید حساس بنا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
بنگلورو کے پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا کہ یہ واقعہ واقعی خودکشی تھا یا اس میں کسی قسم کی اکسانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھاپہ مار ٹیم کا تعلق کیرالہ سے تھا اور پولیس اس حوالے سے متعلقہ حکام سے تفصیلی گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سی جے رائے کے بھائی نے انکشاف کیا ہے کہ انکم ٹیکس حکام پہلی مرتبہ دسمبر میں بنگلورو پہنچے تھے، جبکہ دوسری بار 28 جنوری کو سی جے رائے کو دبئی سے واپس بلا کر پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے مطابق اسی کے بعد تفتیشی عمل میں تیزی آئی۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سی جے رائے کا تعلق ریاست کیرالہ کے شہر کوچی سے تھا۔ وہ قیمتی اور لگژری گاڑیوں کے شوقین تھے اور ملیالم فلم انڈسٹری سے بھی وابستہ رہے، جہاں انہوں نے بطور پروڈیوسر کئی فلمیں بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔