اسمارٹ فونز کی جگہ اسمارٹ گلاسز مستقبل کی ٹیکنالوجی بنیں گے: مارک زکربرگ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے لیس اسمارٹ گلاسز کو مستقبل کی ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں یہ ڈیوائسز روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔
کمپنی کی سہ ماہی آمدنی رپورٹ کے موقع پر زکربرگ نے بتایا کہ میٹا نے اے آئی وئیر ایبل ڈیوائسز اور جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری کی رفتار تیز کر دی ہے تاکہ صارفین کے لیے زیادہ ذہین اور قابل استعمال مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ کمزور بینائی کی وجہ سے چشمے یا کانٹیکٹ لینس استعمال کرتے ہیں، اور یہ وہ لمحہ ہے جسے وہ اسمارٹ فون کی آمد سے مماثل قرار دیتے ہیں، جیسے فلپ فونز کی جگہ اسمارٹ فونز نے لے لی، اسی طرح مستقبل قریب میں زیادہ تر لوگ اے آئی گلاسز کا استعمال شروع کر دیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں میٹا کے اسمارٹ گلاسز کی فروخت میں تین گنا اضافہ ہوا، جس سے اس بات کے آثار ملتے ہیں کہ صارفین اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاہم زکربرگ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور محنت بڑھ رہی ہے، یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ آیا اے آئی گلاسز اتنی مقبولیت حاصل کریں گے جتنی اسمارٹ فونز کو ملی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی اسمارٹ گلاسز کی تیاری میں دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، گوگل کے امکان ہے کہ وہ 2026 میں اپنی اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں متعارف کرائے جبکہ ایپل اگلے ایک سے دو برسوں میں یہ ڈیوائسز صارفین تک پہنچانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسنیپ چیٹ کی مالک کمپنی بھی اے آر گلاسز کے لیے ایک ذیلی کمپنی قائم کر رہی ہے تاکہ نئی ڈیوائسز پر کام کیا جا سکے۔
اس دوران اوپن اے آئی بھی اے آئی وئیر ایبلز پر کام کر رہی ہے، اگرچہ اس کا دائرہ اس وقت ایئر بڈز اور اے آئی پن جیسی ڈیوائسز تک محدود ہے۔
مارک زکربرگ نے زور دیا کہ اس وقت اسمارٹ گلاسز کی مارکیٹ میں میٹا کو واضح سبقت حاصل ہے، اور کمپنی کے تیار کردہ مختلف ماڈلز صارفین کے لیے دستیاب ہیں، آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے گی، جس سے صارفین کے لیے ڈیجیٹل تعامل کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ گلاسز اے آئی کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔