data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے لیس اسمارٹ گلاسز کو مستقبل کی ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں یہ ڈیوائسز روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔

کمپنی کی سہ ماہی آمدنی رپورٹ کے موقع پر زکربرگ نے بتایا کہ میٹا نے اے آئی وئیر ایبل ڈیوائسز اور جدید اے آئی ماڈلز کی تیاری کی رفتار تیز کر دی ہے تاکہ صارفین کے لیے زیادہ ذہین اور قابل استعمال مصنوعات تیار کی جا سکیں۔

مارک زکربرگ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ کمزور بینائی کی وجہ سے چشمے یا کانٹیکٹ لینس استعمال کرتے ہیں، اور یہ وہ لمحہ ہے جسے وہ اسمارٹ فون کی آمد سے مماثل قرار دیتے ہیں، جیسے فلپ فونز کی جگہ اسمارٹ فونز نے لے لی، اسی طرح مستقبل قریب میں زیادہ تر لوگ اے آئی گلاسز کا استعمال شروع کر دیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں میٹا کے اسمارٹ گلاسز کی فروخت میں تین گنا اضافہ ہوا، جس سے اس بات کے آثار ملتے ہیں کہ صارفین اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

تاہم زکربرگ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور محنت بڑھ رہی ہے، یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ آیا اے آئی گلاسز اتنی مقبولیت حاصل کریں گے جتنی اسمارٹ فونز کو ملی ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں دیگر کمپنیوں کی جانب سے بھی اسمارٹ گلاسز کی تیاری میں دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، گوگل کے امکان ہے کہ وہ 2026 میں اپنی اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں متعارف کرائے جبکہ ایپل اگلے ایک سے دو برسوں میں یہ ڈیوائسز صارفین تک پہنچانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسنیپ چیٹ کی مالک کمپنی بھی اے آر گلاسز کے لیے ایک ذیلی کمپنی قائم کر رہی ہے تاکہ نئی ڈیوائسز پر کام کیا جا سکے۔

اس دوران اوپن اے آئی بھی اے آئی وئیر ایبلز پر کام کر رہی ہے، اگرچہ اس کا دائرہ اس وقت ایئر بڈز اور اے آئی پن جیسی ڈیوائسز تک محدود ہے۔

مارک زکربرگ نے زور دیا کہ اس وقت اسمارٹ گلاسز کی مارکیٹ میں میٹا کو واضح سبقت حاصل ہے، اور کمپنی کے تیار کردہ مختلف ماڈلز صارفین کے لیے دستیاب ہیں، آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے گی، جس سے صارفین کے لیے ڈیجیٹل تعامل کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمارٹ گلاسز اے آئی کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ