ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارمز پر ہیکنگ کا خطرہ، نیشنل سی ای آر ٹی کا صارفین اور اداروں کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سی ای آر ٹی) نے ایک انتباہ جاری کیا ہے جس میں آن لائن ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارمز جیسے زوم اور گوگل میٹ پر بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔
ٹیم کے مطابق، ان پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے غیر مجاز افراد آسانی سے میٹنگز میں داخل ہو کر حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اکاؤنٹس ہائی جیک کر سکتے ہیں اور سروس میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ناقص سیکیورٹی سیٹنگز رکھنے والے پلیٹ فارمز ‘زوم بومنگ’ جیسے حملوں کے لیے آسان شکار بن جاتے ہیں۔ زوم بومنگ کے دوران غیر مجاز افراد پرائیویٹ میٹنگز میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے تنظیموں کی اہم گفتگو، حساس ڈیٹا اور سسٹمز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ نیشنل سی ای آر ٹی نے بتایا کہ اس قسم کے حملے میٹنگ میں غیر مجاز شرکاء کے داخلے، معلومات کی چوری، سروس کی معطلی اور پلیٹ فارم کے انتظامی ٹولز کے غلط استعمال کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں صارفین اور اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ میٹنگ کے لنکس صرف محفوظ ذرائع کے ذریعے شیئر کیے جائیں اور میٹنگ آئی ڈیز کو سیشن شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے جاری کیا جائے۔ ویٹنگ رومز کو فعال رکھنا اور تمام شرکاء کے شامل ہونے کے بعد میٹنگ کو لاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکرین شیئرنگ کی اجازت صرف میزبان کو دینے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف
نیشنل سی ای آر ٹی نے صارفین کو متنبہ کیا کہ میٹنگ کے لنکس کو حساس لاگ ان کریڈینشلز کی طرح محفوظ رکھا جائے اور ویڈیو کال کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر باقاعدگی سے سافٹ ویئر اور آپریٹنگ سسٹم اپڈیٹس کی جائیں۔
اداروں کو اپنی سطح پر مضبوط حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں نیٹ ورک سیگمنٹیشن، لئیرڈ سیکیورٹی، مسلسل نگرانی اور انٹروژن ڈیٹیکشن سسٹمز کا استعمال شامل ہے۔ مشکوک سرگرمی کی صورت میں غیر مجاز صارفین کو فوری ہٹانا، سسٹم لاگز کا جائزہ لینا اور محفوظ بیک اپ یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔
نیشنل سی ای آر ٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات حکومت، کاروباری اداروں اور عام صارفین کے لیے ہیں تاکہ آن لائن میٹنگز کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچا جا سکے۔ ٹیم نے کہا کہ آن لائن میٹنگز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے پہلے سے احتیاطی اقدامات اختیار کرنا ہر ادارے اور صارف کی ذمہ داری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ٹی سیکیورٹی ہیکنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ٹی سیکیورٹی ہیکنگ نیشنل سی ای آر ٹی پلیٹ فارمز سکتے ہیں کے لیے
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔