نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سی ای آر ٹی) نے ایک انتباہ جاری کیا ہے جس میں آن لائن ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارمز جیسے زوم اور گوگل میٹ پر بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

ٹیم کے مطابق، ان پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے غیر مجاز افراد آسانی سے میٹنگز میں داخل ہو کر حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اکاؤنٹس ہائی جیک کر سکتے ہیں اور سروس میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ناقص سیکیورٹی سیٹنگز رکھنے والے پلیٹ فارمز ‘زوم بومنگ’ جیسے حملوں کے لیے آسان شکار بن جاتے ہیں۔ زوم بومنگ کے دوران غیر مجاز افراد پرائیویٹ میٹنگز میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے تنظیموں کی اہم گفتگو، حساس ڈیٹا اور سسٹمز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ نیشنل سی ای آر ٹی نے بتایا کہ اس قسم کے حملے میٹنگ میں غیر مجاز شرکاء کے داخلے، معلومات کی چوری، سروس کی معطلی اور پلیٹ فارم کے انتظامی ٹولز کے غلط استعمال کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایڈوائزری میں صارفین اور اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ میٹنگ کے لنکس صرف محفوظ ذرائع کے ذریعے شیئر کیے جائیں اور میٹنگ آئی ڈیز کو سیشن شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے جاری کیا جائے۔ ویٹنگ رومز کو فعال رکھنا اور تمام شرکاء کے شامل ہونے کے بعد میٹنگ کو لاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکرین شیئرنگ کی اجازت صرف میزبان کو دینے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف

نیشنل سی ای آر ٹی نے صارفین کو متنبہ کیا کہ میٹنگ کے لنکس کو حساس لاگ ان کریڈینشلز کی طرح محفوظ رکھا جائے اور ویڈیو کال کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر باقاعدگی سے سافٹ ویئر اور آپریٹنگ سسٹم اپڈیٹس کی جائیں۔

اداروں کو اپنی سطح پر مضبوط حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں نیٹ ورک سیگمنٹیشن، لئیرڈ سیکیورٹی، مسلسل نگرانی اور انٹروژن ڈیٹیکشن سسٹمز کا استعمال شامل ہے۔ مشکوک سرگرمی کی صورت میں غیر مجاز صارفین کو فوری ہٹانا، سسٹم لاگز کا جائزہ لینا اور محفوظ بیک اپ یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔

نیشنل سی ای آر ٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات حکومت، کاروباری اداروں اور عام صارفین کے لیے ہیں تاکہ آن لائن میٹنگز کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچا جا سکے۔ ٹیم نے کہا کہ آن لائن میٹنگز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے پہلے سے احتیاطی اقدامات اختیار کرنا ہر ادارے اور صارف کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ٹی سیکیورٹی ہیکنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی ٹی سیکیورٹی ہیکنگ نیشنل سی ای آر ٹی پلیٹ فارمز سکتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان