ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
استنبول(آئی پی ایس ) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات انصاف اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔عباس عراقچی نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان کسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم ایران منصفانہ اور برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر ایران ترکیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دبا کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں سمجھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی نے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف یورپی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کے داخلی قوانین سے بخوبی آگاہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے پاسدارانِ انقلاب سے متعلق قانون اپریل 2019 میں منظور کیا تھا، جس کے تحت پاسداران کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس قانون کی روشنی میں اگر یورپی ممالک پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں تو ایران بھی یورپی افواج کو دہشت گرد سمجھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنااہل بھارتی حکومت کی ناکام سفارتکاری، ترقی کے دعوے چکنا چور نااہل بھارتی حکومت کی ناکام سفارتکاری، ترقی کے دعوے چکنا چور تنازعات کے پر امن کیلئے تیار،سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے،پاکستان مجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا شرمناک ہے، وزیر اعلی کے پی عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف پی آئی اے ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات بڑھ گئیں، پینشن کے لیے اب نیا اکاؤنٹ کا مطالبہ عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔