جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے جیل افسرا کو حکم دیا کہ سونم وانگچک کی میڈیکل رپورٹ پیر تک سیل بند لفافے میں دستیاب کرائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی پھٹکار کے بعد لداخ کے مشہور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح ایمس جودھ پور لے جایا گیا جہاں طبی جانچ کرائی گئی۔ بتایا گیا کہ جیل میں آلودہ پانی کے استعمال سے انہیں پیٹ میں سنگین انفیکشن کی شکایت تھی، جس کے بعد طبی جانچ کی ضرورت پڑی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک کو سخت سیکورٹی انتظام کے درمیان جودھ پور سنٹرل جیل سے ایمس لایا گیا۔ سونم وانگچک کو جیل سے ایمس جودھ پور تک لے جانے سے قبل پورے راستہ کا سیکورٹی انتظام سخت کر دیا گیا تھا۔ جیل احاطہ سے لے کر اسپتال تک اضافی سیکورٹی فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔ سونم وانگچک کو خصوصی سیکورٹی دائرہ بنا کر اسپتال لے جایا گیا۔

ایمس جودھپور میں سونم کی جانچ سینئر ڈاکٹرس کی ٹیم کی نگرانی میں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان کے پیٹ سے متعلق مسائل کو دیکھتے ہوئے گیسٹرو اینٹیرولاجسٹ کی طرف سے خاص طور سے ٹیسٹ کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ضروری طبی جانچ کر ان کے حالات کا باریکی سے جائزہ لیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے پینے کے آلودہ پانی کا استعمال کرنے سے سونم وانگچک کو ہوئی پیٹ کی تکلیف سے متعلق شکایت سنی۔ اس بارے میں جمعرات کو عدالت نے حکم دیا کہ ان کی طبی جانچ ماہر ڈاکٹروں کے ذریعہ کی جائے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے جیل افسرا کو حکم دیا کہ سونم وانگچک کی میڈیکل رپورٹ پیر تک سیل بند لفافے میں دستیاب کرائی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈیول میں شامل کرنے سے متعلق مطالبہ پر ہوئے پُرتشدد مظاہروں کے 2 دن بعد 26 ستمبر کو وانگچک کو سخت قومی سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اس مظاہرہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام خطہ میں 4 لوگ ہلاک ہوگئے تھے اور 90 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے وانگچک پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے، تب سے وانگچک جودھپور سنٹرل جیل میں زیر حراست ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونم وانگچک کو جودھ پور

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس