بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں، 12 حملے ناکام، 37 دہشتگرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان میں امن و امان تباہ کرنے کی ایک اور بڑی کوشش سیکورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ناکام بنا دی گئی۔
میڈیا رپورٹس میں سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ شب فتنۃ الہندوستان سے منسلک دہشتگرد عناصر نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بیک وقت متعدد حملے کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لے لیا اور تمام حملوں کو ناکام بنا دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے بلوچستان کے کم از کم 12 مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی، جن کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا تھا، تاہم انٹیلی جنس معلومات اور زمینی نگرانی کے مؤثر نظام کے باعث سیکورٹی فورسز پہلے ہی الرٹ تھیں، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو اپنے عزائم میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیوں اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 37 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران سیکورٹی فورسز اور پولیس کے 10 جوان وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے گئے ۔
ذرائع نے بتایا کہ بعض علاقوں میں دہشتگردوں کے چھوٹے گروہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم ان کا تعاقب جاری ہے اور مختلف مقامات پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہیں۔
سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشتگردوں کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
سیکورٹی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اس سلسلے کی کڑی ہیں جو گزشتہ چند روز سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فورسز نے علیحدہ علیحدہ کارروائیوں میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 41 دہشتگردوں کو پہلے ہی ہلاک کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔