موبائل فون سے بچوں کی ذہنی صحت اور نشوونما متاثر ہورہی ہے؛ ماہرین اطفال
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) پرورش میں مائوں کی لاپروائی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صلاحتیں اور نشوونما شدید متاثر ہورہی ہے اور وہ ابتدائی عمر سے ہی ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں، بریسٹ فیڈنگ کے بجائے بوتل کے ذریعے بچوں کو دودھ پلانے سے بچے مختلف انفیکشنز کا شکار ہورہے ہیں۔
نوزائیدہ بچوں کا دماغ ہر سکینڈ میںڈیولپ ہوتا ہے اور مائیں لاعلمی میں روتے ہوئے بچوں کو بھلانے کے لیے موبائل فون پر کوئی کارٹون یا فلم لگا کر بچوں کو سامنے رکھ دیتی ہیں جس سے بچے کے دماغ پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے، ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین اطفال نے ہفتے کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ برانج کے زیر اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس برائے امراض اطفال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس کے مہمان خصوصی معروف اطفال پروفیسر ایم اے عارف تھے جبکہ پروفیسر اقبال میمن، پروفیسر جمال رضا، پی پی اے سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی، سیکریٹری ڈاکٹر سعدالہ چاچڑ، پروفیسر خالد شفیع، پروفیسر محسنہ نور ابراھیم، ڈاکٹر راحت نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں بچوں میں بیماریوں کی روک تھام اور بچوں کی شرح اموات کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اپنے تجربات اور سفارشات پیش کی جائیں گی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جمال رضا نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی ذہنی نشوونما میں مائوں کی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ آجکل مائوں نے اپنے بچوں کو موبائل فون کے حوالے کردیا ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کررہی ہے اور بچے ابتدائی عمر میں ہی ذہنی خلفشار کا شکار ہورہے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں اور مائوں کا انٹرایکشن بچے کی نشوونما میں بہت ضروری ہے جس کی جانب مائیں توجہ نہیں دے رہی۔
پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر سعداللہ اور ڈاکٹر خالد شفیع چاچڑ، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی ڈاکٹر راحت نے بتایا کہ کانفرنس میں بچوں کی بیماری اور علاج کے دوران خلا کو دور کرنے کی حکمت عملی حکومت سندھ کو بھیجی جائے گی، بچوں کی بیماری کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر علاج کے لیے ماہرین اطفال سے رجوع کریں کیونکہ علاج بچے کا بنیاد حق ہے اور بچوں کو انکے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں نوزائیدہ اور 5 سال کے عمر تک کے بچوں کے علاج ومعالجے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیلی میڈیسن کو مضبوط نظام بنانے کے لیے حکومت سندھ کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔
ماہرین نے کہا کہ پی پی اے کی کوشش ہے کہ دیہی علاقوں میں بیمار ہونے والے بچوں کو فوری پرائمری طبی امداد پہنچاکر بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ہم بچوں کی شرح اموات پر قابو پاسکے۔ بریسٹ فیڈنگ کرانے سے بچے میں قوت مدافعت اور قوت اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے، ماں کا دودھ قدرتی طور پر بیکٹریا سے پاک ہوتا ہے، نوزائیدہ بچوں کو دوسال تک ماں کا دودھ پلانا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی دودھ کے خلاف قانون پاس ہوچکا ہے، کوشش کررہے ہیں کہ مارکیٹ میں مصنوعی دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاہم اگر کسی نوزائیدہ کو مصنوعی دودھ کی ضرورت پڑے تو ڈاکٹر کے نسخے پر دودھ فراہم کیا جاسکے گا۔
ماہرین نے زور دیا کہ بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچائو کے لیے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں، حفاظتی ٹیکے 5سال عمر تک کے بچوں کا بنیادی حق ہے ، پولیو وائرس پر کافی حد تک قابوپالیاگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوزائیدہ بچوں بچوں کی ذہنی نے کہا کہ بچوں کو ہوتا ہے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔