صیہونی رژیم فلسطینیوں کو قتل کرنے کیلئے جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہی ہے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں حازم قاسم کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہمیں مورد الزام ٹہرا کر نہتے فلسطینی شہریوں کے ناحق قتل کا جواز تراش رہا ہے۔ اسلئے عالمی برادری کو اپنی ذمے داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے ترجمان "حازم قاسم" نے مقاومتِ اسلامی کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے صیہونی دعووں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہمیں مورد الزام ٹہرا کر نہتے فلسطینی شہریوں کے ناحق قتل کا جواز تراش رہا ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو اپنی ذمے داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔ اس موقع پر حازم قاسم نے غزہ کی پٹی پر تازہ ترین اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے جس میں اس نے موقف اپنایا کہ حالیہ اسرائیلی بمباری اور قتل و غارت گری، حماس کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب تھی۔ اسرائیل ان الزامات کے ذریعے اپنی شرمناک و وحشتناک کارستانیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
حازم قاسم نے کہا کہ یہ بے بنیاد اور بے معنی دعوے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ غاصب اسرائیل، ثالثوں، ضامن ممالک اور نام نہاد امن کونسل کے شراکت داروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ حماس کے ترجمان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس منظم قتل عام کی واضح طور پر مذمت کریں اور عملی اقدامات کرتے ہوئے فوری طور پر انہیں روکنے کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت سوز پالیسی و جرائم کے تسلسل کی وجہ سے صیہونی سربراہوں کا ٹرائل ہونا چاہئے اور انہیں سزائیں ملنی چاہئیں تاکہ ان کی انسان کُش پالیسی رکوائی جا سکے۔ واضح رہے کہ حماس کایہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صیہونی فوج نے آج حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ غزہ پٹی کی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق، آج کے صیہونی حملوں میں اب تک تقریباً 30 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔