کوئٹہ، حملے میں جانبحق ہونیوالے اہلکاروں کی نماز جنازہ، وزیر داخلہ محسن نقوی کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پولیس لائن کوئٹہ میں جانبحق ہونیوالے شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر راحم نسیم و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ آج کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کے حملے میں جانبحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن کوئٹہ میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان اور آئی جی پولیس نے لواحقین سے ملاقات بھی کی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ریاست کی طاقت اور عوام کے عزم کے سامنے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں سے ملک اور صوبے میں امن و امان کے قیام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔ نماز جنازہ میں شریک اعلیٰ شخصیات نے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر داخلہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔