گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی 6 سیٹیں جیتے گی، سید مہدی شاہ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایک انٹرویو میں گورنر گلگ بلتستان کا کہنا تھا کہ نون لیگ اختلافات کا شکار ہے، اس کے پاس امیدوار ہی نہیں۔ گلبر گروپ صرف دیامر تک محدود ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس تمام حلقوں سے امیدوار موجود ہے، اس طرح تو ہم سات سے نو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اسلام ٹائمز۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جی بی کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی 9 نشستیں جیتے گی اور آئندہ حکومت پی پی کی بنے گی۔ نون لیگ کے پاس امیدوار ہی نہیں ہے، ٹکٹوں کی تقسیم نون لیگ کیلئے درد سر ہے۔ مقامی روزنامے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سید مہدی شاہ کا کہنا تھا کہ نون لیگ اختلافات کا شکار ہے، اس کے پاس امیدوار ہی نہیں۔ گلبر گروپ صرف دیامر تک محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس تمام حلقوں سے امیدوار موجود ہے، اس طرح تو ہم سات سے نو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور حکومت ہم بنائیں گے۔ نون لیگ اندرونی اختلافات کا شکار ہے، اس کے پاس ایک دو حلقوں کے علاوہ باقی حلقوں میں امیدوار ہی موجود نہیں ہیں، ایسے میں اس کو کامیابی کیسے ملے گی۔ نون لیگ حفیظ الرحمن گروپ کے رہنما وزیر اخلاق نے سکردو حلقہ نمبر ایک میں اکبر تابان کو ٹکٹ دینے کی صورت میں پارٹی چھوڑنے کی دھمکی تک دے رکھی ہے، ایسے میں ٹکٹوں کی تقسیم نون لیگ کی قیادت کیلئے درد سر بن گئی ہے۔
گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے کہا کہ نون لیگ کے رہنماؤں نے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ سے کہا ہے کہ انہیں جی بی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی کیلئے 2015ء جیسا ماحول چاہیے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس کو ماحول 2015ء والا میسر نہیں آئے گا، اس طرح ہم کامیابی سمیٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکردو حلقہ نمبر ایک کا ٹکٹ کسی جیالے کو ہی ملے گا، یہاں سے پی پی کے پانچ سے چھ رہنماؤں نے ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرائی ہیں، پارٹی سے باہر کسی بندے کو ٹکٹ ملے گا اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ جلال اور راجہ اعظم خان سیاستدان نہیں ہیں، یہ لوگ صرف اپنی سیٹ کے پیچھے ہیں، انہیں صرف اپی سیٹ کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلبر خان گروپ دیامر تک محدود ہے تاہم گلبر خان نے نگران کابینہ میں اپنے دو بندوں کو شامل کرا کر اپنی ندست پکی کرا دی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خیال گروپ کو کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا پڑے گی یا اس کو اپنی جماعت فوری بنا کر رجسٹرد کرانا پڑے گی۔ اس کے بغیر یہ حکومت نہیں بنا پائیں گے۔ کسی جماعت میں شمولیت کے بغیر ہم خیال گروپ کو ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشستیں بھی نہیں ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور ایم ڈبلیو ایم میں اتحاد چل رہا ہے، پی ٹی آئی نے سینیٹ میں ایم ڈبلیو ایم کے قائد کو قائد حزب اختلاف بنوایا ہے۔ گلگت بلتستان الیکشن میں ان دونوں جماعتوں کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں جماعتیں بھی اپنا اثر ضرور دکھائیں گی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا بھی صوبائی اسمبلی کے آئندہ الیکشن میں اہم کردار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، پی پی کو ان تمام جماعتوں پر سبقت حاصل ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کہنا تھا کہ امیدوار ہی نون لیگ کے پاس
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔