پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،خلیجی ممالک سفرکیلئے سافٹ اسکلز سرٹیفیکیٹ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: اسلام آباد میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نےخلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیلئے پروٹیکٹر رجسٹریشن میں سافٹ اسکلز سرٹیفیکیٹ کی ضرورت میں ایک ماہ کی توسیع اعلان کیاہے۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن میں سافٹ اسکلز سرٹیفیکیٹ کی ضرورت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ بیورو نے کہا یہ ضرورت پہلے یکم فروری 2026 سے نافذ ہونے والی تھی، لیکن اب اسے یکم مارچ 2026 سے لاگو کیا جائے گا، جس سے پاکستان میں مقیم مزدوروں اور دیگر افراد کو مزید سہولت فراہم ہوگی۔اس فیصلے کا مقصد سفر کے انتظامات کو آسان بنانا اور خلیج میں پاکستانی ملازمین کے لیے بہتر روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔حکام نے درخواست دہندگان سے کہا ہے کہ وہ مزید تفصیلات اور ضروریات کی تعمیل کے لیے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اس سے قبل بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی بیرون ملک ملازمت کے لیے نئے آن لائن پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ سے متعلق وضاحت کی تھی۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں حکام کا کہنا تھا کہ بعض غیر ذمہ دار عناصر عوام میں تشویش پھیلانے کے لیے یہ بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں کہ یکم فروری 2026 سے آن لائن پروٹیکٹر (ای پروٹیکٹر) سرٹیفکیٹ بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے تمام افراد کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
کوئٹہ: سریاب کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔