شنکر اچاریہ کے سوالوں کا بی جے پی کی حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اکھلیش یادو
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ حکومت معاشرے میں تصادم کو ہوا دینے کے بجائے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دے۔ اسلام ٹائمز۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیراعلٰی اکھلیش یادو نے اپنے پارلیمانی حلقہ قنوج کا دورہ کیا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی اور تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران اکھلیش یادو نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی سخت تنقید کی۔ اکھلیش یادو نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔ قنوج کے دورے پر آئے اکھلیش یادو نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات قریب ہیں، اس لئے ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے میں تصادم کو ہوا دینے کے بجائے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کو نشانہ بناتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ وہ ہمیشہ وزیر اعلیٰ ہی رہنا چاہتے ہیں، اس لئے وہ تفرقہ انگیز بیانات دیتے ہیں۔
شنکر اچاریہ کے بارے میں دیے گئے بیان کے بارے میں اکھلیش یادو نے کہا کہ شنکر اچاریہ کی بہت توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ ہوسکتا ہے جو شنکر اچاریہ کا احترام نہ کر سکے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ شنکر اچاریہ گنگا میں نہائے بغیر واپس آئے اور حکومت کے پاس ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جان بوجھ کر شنکر اچاریہ کی توہین کی ہے۔ قنوج میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ شنکر اچاریہ کی بہت توہین کی گئی ہے، بی جے پی حکومت کے پاس ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے، یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔
اکھلیش یادو نے آنے والی مردم شماری کو لے کر بھی بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں سے متعلق تمام معلومات کو مردم شماری میں شمار کیا جائے گا اور سماج وادی پارٹی چاہتی ہے کہ ذات پات کی مردم شماری کو اس میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کووڈ 19 ویکسین سے ہونے والی اموات کی رپورٹس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیٹا سامنے آتا ہے تو محکمہ صحت بہتر علاج فراہم کرنے کے طریقے تلاش کر سکے گا۔ مزید برآں اکھلیش یادو نے سونے اور چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کی۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ عام لوگ پیتل کے زیورات پہنیں، جب کہ سونا بی جے پی کے اراکین خرید رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شنکر اچاریہ انہوں نے بی جے پی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔