بسنت کیلئے پتنگوں اور ڈور کی فروخت کل سے شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
لاہور میں بسنت کےلیے کل سے پتنگوں اور ڈور کی فروخت شروع ہوگی، اب تک 2246 ٹریڈرز کو پتنگوں اور ڈور فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت کےلیے مجموعی طور پر 2504 درخواستیں موصول ہوئیں، 95 درخواستیں مسترد جبکہ 163 ٹریڈرز کی رجسٹریشن کاعمل جاری ہے۔
انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت کے ٹریڈرز کی رجسٹریشن کا عمل 8 فروری تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب بسنت کی تیاریوں اور دیگر اقدامات کے باعث لاہور کے انتظامی افسران کی کل کی چھٹی ختم کردی گئی ہے۔
کمشنر لاہور مریم خان کا کہنا ہے کہ کل چھٹی کے روز تمام اسسٹنٹ کمشنرز و متعلقہ محکمے فیلڈ میں ہوں گے، شہر میں بسنت قوانین نفاذ کیلئے تمام انتظامی افسران فیلڈ میں رہیں گے۔
کمشنر لاہور نے کہا کہ شہر میں قائم بسنت کیمپس سے آگاہی اور سیفٹی راڈز لگانے کی مہم جاری رہے گی، انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو آگاہی دے کر ان کی معاونت حاصل کریں، بسنت کو محفوظ بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔