data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہےکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت 17 سال سے قابض ہے، 17 سال میں کراچی میں کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں دیا۔بلکہ 3 ہزار 326 ارب روپے ہڑپ کر گئی،کراچی کے بچے کبھی گٹر میں، کبھی ٹرالر کی زد میں آجاتے ہیں اور کبھی آگ لگ جائے تو کوئی بچانے نہیں آتا۔

امیر جماعت اسلامی نے جینے دو کراچی مارچ کے حوالے سے نمائش چورنگی پر استقبالیہ کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ، حکومتی نااہلی و مجرمانہ غفلت ہے، کراچی کے عوام کے مسائل پر جماعت اسلامی کے تحت اتوار کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھاکہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے گل پلازہ کے دکان دار آگ میں جھلس گئے،کراچی ٹیکس دیتا ہے تو پورا ملک چلتا ہے،کراچی کے بجٹ کو کرپشن اور نااہلی کی نذر کردیا ہے، پیپلزپارٹی کو ہمیشہ ایم کیو ایم کی طرح پارٹیوں کا تعاون رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے فرینڈلی اپوزیشن کرتی رہتی ہیں، اختیارات عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے، اہل کراچی کو اب گھروں سے نکلنا ہوگا اور گلی گلی میں قبضہ سسٹم کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہوگئی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کل اتوار کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان و تاریخی جینے دو کراچی کو مارچ ہوگا، عوام لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوں گے اور اس مارچ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نعیم الرحمان

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن