کراچی ایئرپورٹ کی توسیع کا فیصلہ: منصوبے کے لئے 100ارب روپے مختص
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کراچی ائیرپورٹ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، توسیعی منصوبے کے لیے 100 ارب روپے مختص کر دیے ہیں۔
میڈیاذرائع کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ کراچی ائیرپورٹ توسیعی منصوبے میں نئی ٹرمینل بلڈنگ، کارگو ویلیج سمیت دیگر تعمیرات ہوں گی اور اس کے لیے پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی انتظامیہ نے توسیعی منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق نیا ماسٹر پلان بھی توسیع منصوبے کا حصہ ہوگا، جس میں نئے کنٹرول ٹاور، فائر اسٹیشن سمیت ڈومیسٹک ٹرمینل بلڈنگ توسیعی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔جبکہ مسافروں کی تعداد میں اضافے اور آئندہ 10 سال کی گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی ائیرپورٹ توسیعی منصوبے پر کام ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توسیعی منصوبے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔