بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے بلوچستان میں حملے ؛ 92 دہشت گرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سٹی 42: 31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنة الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر کی جانے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی اور بلوچستان کی ترقی کو متاثر کرنا تھا۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جہاں خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت اٹھارہ بے گناہ شہری شہید ہوئے۔سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل الرٹ ہونے کے باعث فوری اور مؤثر ردعمل دیا اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
افواجِ پاکستان کے بہادر جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طویل، شدید اور دلیرانہ کلیئرنس آپریشن کیے، جن کے نتیجے میں تین خودکش بمباروں سمیت بانوے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور مقامی آبادی کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔تاہم کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے پندرہ بہادر سپوتوں نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
کوئٹہ: سریاب کے علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 4 مبینہ دہشتگرد ہلاک
متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جبکہ ان گھناؤنے اور بزدلانہ حملوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انٹیلی جنس رپورٹس نے ل تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغناؤں کی ہدایت پر کیے گئے، جو کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنة الہندوستان اور فتنة الخوارج کے اکتالیس دہشت گرد مارے گئے
گزشتہ دو دنوں کے دوران کامیاب کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں جاری آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد ایک سو تینتیس ہو چکی ہے۔
سوئی سدرن کا دو دن کیلئے گیس بند کرنے کا اعلان
علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رہیں گے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلا تعطل انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی
ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے سیکیورٹی ادارے پرعزم ہیں ۔
حج پر جانے کے خواہشمند عازمین کے لیے اہم خبر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک