بلوچستان حملوں میں بھارت ملوث ہے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کی۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دو روز میں 108 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ فورسز نے بھرپور اور بہترین ردعمل دے کر فتنہ الہندوستان کا مورال مزید کم کردیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان وزیراعلیٰ بہت بہادر ہیں جو صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے مسلح شرپسندوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جس پر فورسز نے ردعمل دیتے ہوئے 67 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ گوادر کی لیبر کالونی میں دہشت گردوں نے 11 بلوچ افراد کو قتل کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔