Express News:
2026-07-24@02:11:14 GMT

جابر بن حیان… ’’بابائے کیمیا‘‘

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

جب ہم جدید دنیا میں سائنس، تحقیق، لیبارٹری اور تجربے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ سب مغرب کی ایجاد محسوس ہوتا ہے۔ اسکولوں اور جامعات میں پڑھائی جانے والی تاریخ بھی اکثر یہی تاثر دیتی ہے کہ سائنسی ترقی کا آغاز یورپ سے ہوا لیکن اگر تاریخ کو تعصب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک سادہ سا سوال سامنے آتا ہے،کیا سائنسی عمل واقعی مغرب سے شروع ہوا یا کہیں اور سے؟

اس سوال کا جواب ہمیں سائنسی تاریخ پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ آج کی سائنسی ترقی کی بنیاد آٹھویں صدی کے دوران ایک مسلمان صاحب علم شخص جابر بن حیان نے رکھی۔

یہ وہ شخصیت ہے جس نے سائنس کو قیاس نہیں بلکہ تجربہ (Experiment) کرنا سکھایا۔ اس تجربے کے بغیر جدید کیمیا کا تصور ممکن نہ تھا۔ سائنس انھیں ’’بابائے کیمیا‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق جابر بن حیان کی پیدائش تقریباً 721 عیسوی میں ایران میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلم دنیا علمی، فکری اور تہذیبی اعتبار سے دنیا کی قیادت کر رہی تھی۔ بغداد، کوفہ، بصرہ اور دمشق جیسے شہر صرف سیاسی مراکز نہیں تھے بلکہ علم، تحقیق اور مکالمے کاگہوارہ سمجھے جاتے تھے۔

جابر بن حیان اسی ماحول کی پیداوار تھے۔ ایک ایسا ماحول جہاں سوال اٹھانا جرم نہیں تھا، جہاں اختلاف کو بغاوت نہیں سمجھا جاتا تھا اور جہاں علم کو عبادت کا درجہ حاصل تھا۔

اسی فضا نے ان کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ انھیں عہد اسلام کی عظیم علمی شخصیت امام جعفر صادقؒ کی رہنمائی اور صحبت میسر رہی۔ امام جعفر صادقؒ صرف دینی علوم کے عالم نہیں تھے بلکہ فطری علوم، فلسفہ اور کائنات کے نظم ونسق پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔

ان کی درسگاہ محض فقہ یا حدیث تک محدود نہیں تھی بلکہ وہاں عقل، تجربے اور مشاہدے کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔اسی فکری ماحول نے جابر بن حیان کو سکھایا کہ علم طاقت ضرور ہے لیکن اگر وہ اخلاق اور ذمے داری سے خالی ہو تو نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

جابر بن حیان سے پہلے کیمیا کو اکثر جادو، ٹونے اور پراسرار عملیات سے جوڑا جاتا تھا۔ ان ایام میں یہ تصور عام تھا کہ کچھ مخصوص دعوے یا رمزی الفاظ (سمجھ میں نہ آنے والے الفاط یا جادوئی عمل) پڑھ لینے سے دھات سونا بن سکتی ہے یا قدرت کے راز خودبخود کھل جائیں گے۔

جابر بن حیان نے اس سوچ کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا بنیادی اصول یہ تھا کہ جو بات تجربے اور مشاہدے سے ثابت نہ ہو، وہ علم نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ فکری انقلاب تھا جس نے کیمیا کو جادوگری سے نکال کر سائنس کی بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔ انھوں نے تجربہ گاہ کو مرکزی حیثیت دی اور یہ ثابت کیا کہ علم محض کتابوں سے نہیں بلکہ عملی آزمائش سے آگے بڑھتا ہے۔

جابر بن حیان محض نظری فلسفی نہیں تھے بلکہ عملی سائنس دان تھے۔ انھوں نے کیمیائی مادوں کو الگ کرنے، صاف کرنے اور نئی شکل دینے کے طریقے وضع کیے۔ تیزاب پر ان کی تحقیق، ادویات کی تیاری اور دھاتوں کی صفائی جیسے عمل آج بھی جدید کیمیا کے بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔

انھوں نے تجربہ گاہ کے اصول متعارف کروائے، آلات کے استعمال کو منظم کیا اور نتائج کو تحریری شکل دی تاکہ علم آگے منتقل ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا انھیں بجا طور پر بابائے کیمیا کے لقب سے یاد کرتی ہے۔

جابر بن حیان کا تعلق عباسی خلافت کے اس دور سے تھا جسے اسلامی تاریخ کا سنہری زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں علم کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی، کتب خانوں کا قیام عمل میں آ رہا تھا اور دنیا بھر کے علوم کا عربی میں ترجمہ ہو رہا تھا۔

جابر بن حیان اس عظیم علمی تحریک کا اہم حصہ تھے۔ وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ایک پورے فکری قافلے کا حصہ تھے جو علم کو انسانی خدمت کا ذریعہ سمجھتا تھا۔

جابر بن حیان کا اثر صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں تھا، ان کی کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ پہنچیں جہاں انھیں Geber کے نام سے جانا گیا۔ صدیوں تک یورپی جامعات میں کیمیا کی تعلیم انھی کتابوں کی بنیاد پر دی جاتی رہی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہی وہ علم تھا جس نے بعد میں یورپ میں سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ یوں ایک مسلمان عالم نے غیرمحسوس انداز میں مغرب کی فکری تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔

جابر بن حیان کی تحریروں کا ایک منفرد پہلو ان کی رمزی اور کوڈڈ زبان ہے۔ رمزی سے مراد ایسی زبان ہے جو پیچیدہ علامتوں اور اصطلاحات پر مبنی ہو تاکہ علم ہر کسی کے ہاتھ میں جا کر غلط استعمال نہ ہو، ان کی اسی پیچیدہ طرزِ تحریر کی وجہ سے انگریزی زبان کا لفظ ’’Gibberish’’ منسوب کیا گیا۔

تاریخی روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ جابر بن حیان کے خلیفہ ہارون الرشید سے اختلافات پیدا ہوئے اور حالات اس حد تک بگڑے کہ انھیں جان بچا کر کوفہ منتقل ہونا پڑا۔ زندگی کے آخری ایام انھوں نے تنہائی اور نظربندی میں گزارے۔

یہ انجام بظاہر ایک عظیم عالم کے شایانِ شان نہیں تھا، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ اقتدار ختم ہو جاتا ہے لیکن علم باقی رہتا ہے۔

جابر بن حیان کی زندگی ہم سب کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ تحقیقی کاوشوں اور علم کی ترویج سے تشکیل پاتی ہیں۔

ترقی دعوؤں سے نہیں عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔ اگر ہم آج بھی سوال پوچھنے سے گھبرائیں گے، تحقیق کو ثانوی حیثیت دیں گے اور عملی تجربات سے دور رہیں گے تو ہم دوسروں کے بنائے ہوئے علم کے صارف ہی بن کر رہ جائیں گے۔

جو قومیں اپنے جابر بن حیان بھول جاتی ہیں، وہ دوسروں کی لیبارٹریوں میں کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور ان کی تاریخی میراث محض ایک حوالہ بن جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں تھے بلکہ جابر بن حیان انھوں نے کہ علم

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف