Islam Times:
2026-06-02@22:40:02 GMT

ایران وینزویلا نہیں

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

ایران وینزویلا نہیں

اسلام ٹائمز: ایک اعلی سطحی امریکی عہدیدار کے بقول ٹرمپ اور اس کی حکومت میں شامل دیگر عہدیدار بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی اس سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ثابت ہو گی جو امریکہ نے وینزویلا کے خلاف انجام دی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ امریکی فوجیوں کو شدید خطرات سے روبرو کر دے گا کیونکہ ایران، وینزویلا کی نسبت انتہائی طاقتور حریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب تک تذبذب کا شکار ہے۔ بعض ڈیموکریٹک رہنماوں نے بھی ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے فوجی اقدام کی دھمکی دینے کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
گذشتہ برس موسم گرما میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کی مسلح افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے انجام دیے ہیں تو ساتھ  ہی اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں تک رسائی سے روکنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے سربراہان امن معاہدہ نہیں کریں گے تو مستقبل میں انجام پانے والے حملے زیادہ شدید اور زیادہ آسانی سے انجام پائیں گے۔ معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز یہ مقدمہ بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے: "ٹرمپ نے اس ہفتے بھی اپنے اس دھمکی آمیز بیان کو دہرایا اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی حملے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ایران ایسا ملک ہے جس کا جوہری پروگرام مشرق وسطی یا امریکہ کے لیے فوری خطرہ تصور نہیں کیا جاتا۔"
 
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے: "گذشتہ چھ ماہ کے دوران ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ایران نے یورینیم افزودگی کی اپنی صلاحیتیں بحال کرنے اور جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔" نیویارک ٹائمز کا دعوی ہے کہ اس کا یہ جائزہ امریکی اور یورپی حکام نیز ایران پر نظر رکھنے والے آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویزات پر مبنی ہے۔ یہ امریکی اخبار مزید لکھتا ہے کہ مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں ٹرمپ کی جانب سے اس وقت سامنے آنے والے نئے دھمکی آمیز بیانات کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں، جیسے "کیا اس کی دھمکیاں محض ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ہیں؟ کیا جوہری پروگرام پر فوجی حملہ ایران کے سربراہان کو کمزور کرنے کا بہانہ بن سکتا ہے؟
 
کیا وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی وجہ ایک بار پھر اس کا جوہری پروگرام بتائی ہے جبکہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل وہ اس کی وجہ ایرانی عوام کا احتجاج بیان کرتا تھا؟ اگر ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جیسا کہ ٹرمپ نے گذشتہ برس جون میں یہ دعوی کیا تھا، تو اب ایران پر نئے حملے کے ممکنہ اہداف کیا ہو سکتے ہیں؟" نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران پر فوجی حملے کی اجازت نہیں دی اور پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے جانے والے آپشنز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہر فوجی اقدام کا جواب دو ٹوک اور منہ توڑ ہو گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیاری ہیں۔
 
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے: "ٹرمپ بدستور ایک سفارتی حل کے درپے ہے اور کچھ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کھلم کھلا فوجی دھمکیاں دینے کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔" ٹرمپ حکومت کی جانب سے ایران سے مطالبات کا سلسلہ اب صرف جوہری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایران سے یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کر دینے اور اعلی حد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر اپنے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں سے تعلق توڑ دینے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ایران سے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج کم کر دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ این پی ٹی کا رکن ہونے کے ناطے اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے اور وہ اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
 
اسی طرح ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہے اور اس پر کسی قسم کی سودے بازی اور مذاکرات ممکن ہی نہیں۔ ایک اعلی سطحی امریکی عہدیدار کے بقول ٹرمپ اور اس کی حکومت میں شامل دیگر عہدیدار بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی اس سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ثابت ہو گی جو امریکہ نے وینزویلا کے خلاف انجام دی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ امریکی فوجیوں کو شدید خطرات سے روبرو کر دے گا کیونکہ ایران، وینزویلا کی نسبت انتہائی طاقتور حریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب تک تذبذب کا شکار ہے۔ بعض ڈیموکریٹک رہنماوں نے بھی ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے فوجی اقدام کی دھمکی دینے کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔
 
امریکہ کے اندرونی حلقوں میں یہ سنجیدہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کانگریس، ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ کس قانونی اختیار کے تحت ایسی فوجی کاروائی انجام دے گا؟ اگرچہ امریکہ نے مغربی ایشیا خطے کی جانب فوجی نقل و حرکت شروع کر رکھی ہے لیکن حتی ٹرمپ کے مشیران اعلی بھی اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف ٹکراو کا کوئی روشن مستقبل دکھائی نہیں دے رہا۔ بدھ کے دن جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر ایرانی حکومت سرنگون ہو جاتی ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ تو اس نے کہا: "میرا نہیں خیال کوئی اس کا سیدھا جواب دے سکتا ہو"۔ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ لوٹا تو اسے شدید فوجی حملے کا سامنا ہو گا لیکن مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا خطے میں ہماری فوج کی تعیناتی زیادہ تر دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات کی میز پر ایران کو جوہری نیویارک ٹائمز جوہری پروگرام ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اگر ایران امریکہ نے کیا ہے کہ ایران پر کہ ایران کی فوجی کے لیے نے کہا کہ اگر

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان