Islam Times:
2026-07-24@08:56:31 GMT

ایران وینزویلا نہیں

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

ایران وینزویلا نہیں

اسلام ٹائمز: ایک اعلی سطحی امریکی عہدیدار کے بقول ٹرمپ اور اس کی حکومت میں شامل دیگر عہدیدار بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی اس سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ثابت ہو گی جو امریکہ نے وینزویلا کے خلاف انجام دی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ امریکی فوجیوں کو شدید خطرات سے روبرو کر دے گا کیونکہ ایران، وینزویلا کی نسبت انتہائی طاقتور حریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب تک تذبذب کا شکار ہے۔ بعض ڈیموکریٹک رہنماوں نے بھی ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے فوجی اقدام کی دھمکی دینے کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
گذشتہ برس موسم گرما میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کی مسلح افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے انجام دیے ہیں تو ساتھ  ہی اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں تک رسائی سے روکنے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے سربراہان امن معاہدہ نہیں کریں گے تو مستقبل میں انجام پانے والے حملے زیادہ شدید اور زیادہ آسانی سے انجام پائیں گے۔ معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز یہ مقدمہ بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے: "ٹرمپ نے اس ہفتے بھی اپنے اس دھمکی آمیز بیان کو دہرایا اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی حملے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ایران ایسا ملک ہے جس کا جوہری پروگرام مشرق وسطی یا امریکہ کے لیے فوری خطرہ تصور نہیں کیا جاتا۔"
 
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے: "گذشتہ چھ ماہ کے دوران ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ایران نے یورینیم افزودگی کی اپنی صلاحیتیں بحال کرنے اور جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔" نیویارک ٹائمز کا دعوی ہے کہ اس کا یہ جائزہ امریکی اور یورپی حکام نیز ایران پر نظر رکھنے والے آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویزات پر مبنی ہے۔ یہ امریکی اخبار مزید لکھتا ہے کہ مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں ٹرمپ کی جانب سے اس وقت سامنے آنے والے نئے دھمکی آمیز بیانات کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں، جیسے "کیا اس کی دھمکیاں محض ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ہیں؟ کیا جوہری پروگرام پر فوجی حملہ ایران کے سربراہان کو کمزور کرنے کا بہانہ بن سکتا ہے؟
 
کیا وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی وجہ ایک بار پھر اس کا جوہری پروگرام بتائی ہے جبکہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل وہ اس کی وجہ ایرانی عوام کا احتجاج بیان کرتا تھا؟ اگر ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جیسا کہ ٹرمپ نے گذشتہ برس جون میں یہ دعوی کیا تھا، تو اب ایران پر نئے حملے کے ممکنہ اہداف کیا ہو سکتے ہیں؟" نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران پر فوجی حملے کی اجازت نہیں دی اور پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے جانے والے آپشنز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہر فوجی اقدام کا جواب دو ٹوک اور منہ توڑ ہو گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیاری ہیں۔
 
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے: "ٹرمپ بدستور ایک سفارتی حل کے درپے ہے اور کچھ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کھلم کھلا فوجی دھمکیاں دینے کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔" ٹرمپ حکومت کی جانب سے ایران سے مطالبات کا سلسلہ اب صرف جوہری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایران سے یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کر دینے اور اعلی حد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر اپنے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں سے تعلق توڑ دینے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ایران سے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج کم کر دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ این پی ٹی کا رکن ہونے کے ناطے اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے اور وہ اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
 
اسی طرح ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہے اور اس پر کسی قسم کی سودے بازی اور مذاکرات ممکن ہی نہیں۔ ایک اعلی سطحی امریکی عہدیدار کے بقول ٹرمپ اور اس کی حکومت میں شامل دیگر عہدیدار بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی اس سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ثابت ہو گی جو امریکہ نے وینزویلا کے خلاف انجام دی تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ امریکی فوجیوں کو شدید خطرات سے روبرو کر دے گا کیونکہ ایران، وینزویلا کی نسبت انتہائی طاقتور حریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب تک تذبذب کا شکار ہے۔ بعض ڈیموکریٹک رہنماوں نے بھی ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے فوجی اقدام کی دھمکی دینے کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔
 
امریکہ کے اندرونی حلقوں میں یہ سنجیدہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کانگریس، ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ کس قانونی اختیار کے تحت ایسی فوجی کاروائی انجام دے گا؟ اگرچہ امریکہ نے مغربی ایشیا خطے کی جانب فوجی نقل و حرکت شروع کر رکھی ہے لیکن حتی ٹرمپ کے مشیران اعلی بھی اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف ٹکراو کا کوئی روشن مستقبل دکھائی نہیں دے رہا۔ بدھ کے دن جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ میں یہ سوال کیا گیا کہ اگر ایرانی حکومت سرنگون ہو جاتی ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ تو اس نے کہا: "میرا نہیں خیال کوئی اس کا سیدھا جواب دے سکتا ہو"۔ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ لوٹا تو اسے شدید فوجی حملے کا سامنا ہو گا لیکن مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا خطے میں ہماری فوج کی تعیناتی زیادہ تر دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات کی میز پر ایران کو جوہری نیویارک ٹائمز جوہری پروگرام ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اگر ایران امریکہ نے کیا ہے کہ ایران پر کہ ایران کی فوجی کے لیے نے کہا کہ اگر

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل