امریکا کی آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں؛ ایران کے بندرگاہی شہر میں خوفناک دھماکا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایران کی سب سے اہم اور عالمی شہرت یافتہ بندرگاہی شہر بندر عباس میں ہوا جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جہاں امریکا نے بڑا جنگی بیڑہ بھیجا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ خوفناک دھماکا بندرعباس کی 8 منزلہ عمارت میں ہوا اس کے کم از کم دو فلور مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
دھماکے میں متعدد گاڑیاں اور دکانیں تباہ ہوگئیں۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ البتہ ایمبولینسوں کو جاتے دیکھا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ کا ابھی تک تعین نہیں کیا جاسکا ہے تاہم حکام تفتیش کر رہے ہیں۔
ریسکیو اور فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے تاہم کوئی واضح تعداد یا اموات کی تصدیق نہیں ہوئی۔
البتہ نیم سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالی خبروں کو مسترد کردیا کہ دھماکا پاسداران انقلاب کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بندر عباس آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹیجک شہر ہے جہاں 26 اپریل 2025 کو ہونے والے دھماکے میں 60 کے قریب افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔