ایران کی سب سے اہم اور عالمی شہرت یافتہ بندرگاہی شہر بندر عباس میں ہوا جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جہاں امریکا نے بڑا جنگی بیڑہ بھیجا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ خوفناک دھماکا بندرعباس کی 8 منزلہ عمارت میں ہوا اس کے کم از کم دو فلور مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

دھماکے میں متعدد گاڑیاں اور دکانیں تباہ ہوگئیں۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ البتہ ایمبولینسوں کو جاتے دیکھا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ کا ابھی تک تعین نہیں کیا جاسکا ہے تاہم حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

ریسکیو اور فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے تاہم کوئی واضح تعداد یا اموات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

البتہ نیم سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالی خبروں کو مسترد کردیا کہ دھماکا پاسداران انقلاب کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بندر عباس آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹیجک شہر ہے جہاں 26 اپریل 2025 کو ہونے والے دھماکے میں 60 کے قریب افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی