ٹرمپ کی امن کونسل پر اسرائیل کا عدم اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: اسرائیلی سینٹر فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن کونسل عملی طور پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے یا زوال کے دہانے پر ہے۔ صہیونی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ غزہ میں قلیل مدت میں امریکہ اور علاقائی اداکاروں کی حمایت سے کامیاب ہو سکتا ہے لیکن بین الاقوامی جواز کی کمی، ذاتی طور پر ٹرمپ پر حد سے زیادہ انحصار اور مغرب کی جانب سے وسیع حمایت نہ ملنے کی وجہ سے درمیانی اور طویل مدت میں یہ ناکام ہو جائے گا۔ خصوصی رپورٹ:
اسرائیلی سینٹر فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز نے "ٹرمپ پیس کونسل" کی حیثیت کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس ادارے کو گہرے ساختیاتی مسائل اور محدود بین الاقوامی قانونی جواز کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے اور خطے کی تعمیر نو کے لیے "ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے" کے ایک حصے کے طور پر امن کونسل ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی تھی اور اسی سال نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے اس کی توثیق کی گئی تھی۔ کونسل کو منصوبے کے دوسرے مرحلے کی نگرانی بشمول ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی، ایک بین الاقوامی استحکام فورس، اور غزہ اور تعمیر نو کی ایگزیکٹو کمیٹی کا قیام کرنا تھا۔
تاہم جب ٹرمپ نے ڈیووس میں کونسل کی افتتاحی تقریب منعقد کی تو تمام ارکان حیران رہ گئے۔ کونسل غزہ پر توجہ مرکوز کرنے سے آگے بڑھ گئی ہے اور تنازعات کے حل کے لیے ایک عالمی طریقہ کار بن چکی ہے۔ اس کے چارٹر میں کسی جغرافیائی حدود یا اقوام متحدہ کی قرارداد سے تعلق کا ذکر نہیں ہے، دنیا کے کئی ممالک نے اسے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے کی یکطرفہ امریکی کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ ایک اور نکتہ جس پر تنقید کی گئی ہے وہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی کونسل کے مستقل صدر کے طور پر موجودگی (ان کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی، جب تک کہ انہیں تمام اراکین کے اتفاق سے ہٹا دیا جائے)۔ ویٹو پاور، ٹرمپ کی جانب سے اراکین کی تقرری اور برطرفی، اور مستقل اراکین کے لیے 1 بلین ڈالر کی رکنیت کی ضرورت نے بھی بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
امن کونسل اس قدرشدید ہو گئی ہے کہ اسرائیلی سینٹر فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے تجزیہ کاروں نے اس ڈھانچے کو خطرناک، غیر شفاف اور بدعنوانی اور ذاتی سیاسی فیصلہ سازی کا شکار قرار دیا ہے۔ صہیونی ماہرین کے مطابق کونسل کی ایک اور کمزوری اسے قبول نہ کرنا ہے۔ مدعو کیے گئے تقریباً 60 ممالک میں سے، صرف 26 ہی رکن بنے ہیں (بنیادی طور پر عرب ممالک جیسے سعودی عرب، پاکستان،متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن؛ ترکی، انڈونیشیا، ارجنٹائن، ہنگری، بلغاریہ، اور اسرائیل)۔ اہم مغربی ممالک (برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین) نے شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ چین بھی کونسل کا رکن نہیں بنا۔ اس رکنیت کے اختلاط نے کونسل کی عالمی قبولیت کو تیزی سے کم کر دیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹرمپ دراصل "ناکام طریقوں اور اداروں" کا حوالہ دے کر اقوام متحدہ کو کمزور کر رہے ہیں اور انہوں نے امن کونسل کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
اسرائیلی سینٹر فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن کونسل عملی طور پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے یا زوال کے دہانے پر ہے۔ صہیونی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ غزہ میں قلیل مدت میں امریکہ اور علاقائی اداکاروں کی حمایت سے کامیاب ہو سکتا ہے لیکن بین الاقوامی جواز کی کمی، ذاتی طور پر ٹرمپ پر حد سے زیادہ انحصار اور مغرب کی جانب سے وسیع حمایت نہ ملنے کی وجہ سے درمیانی اور طویل مدت میں یہ ناکام ہو جائے گا۔ اس صورت میں، "غزہ کی ذمہ داری اسرائیل یا فلسطینی گروہوں کو واپس کرنے" کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (عملی طور پر اور عالمی رائے عامہ کی نظر میں)۔ اسرائیلی سینٹر فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ میں اس اقدام کو دیرپا سفارتی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی اقوام متحدہ امن کونسل رپورٹ میں گیا ہے کہ کے طور پر کونسل کی ناکام ہو کے لیے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو