Express News:
2026-07-24@00:55:38 GMT

عالمی بحران

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کا مرکز یورپ رہا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ کا دور شروع ہوا۔ امریکا اور سوویت یونین کی اس سرد جنگ کا مرکز تھا مشرقِ وسطیٰ۔ سرد جنگ کے اثرات سے سوویت یونین اپنی Planned economy میں ناکام ہوااور ٹوٹ گیا۔

نیو ورلڈ آرڈرکی بنیاد ، عراق میں صدام حسین کے خاتمے کے ساتھ پڑی۔ اب دنیا میں ایک نئے ورلڈ آرڈر یا پھرکینیڈا کے وزیرِاعظم جیسا کہہ رہے ہیں Rapture ہوا ہے، یعنی دوسری جنگِ عظیم کے بعد وجود میں آنے والی اقوامِ متحدہ اب بے معنی نظر آ رہی ہے۔

اب تو ایسی رسم چل پڑی ہے کہ Might is right یا پھر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس۔ اقوامِ متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی جنگوں کا سلسلہ تو ضرور جاری رہا مگر اس کی شدت میں کمی ضرور پائی گئی اور اقوام ِ متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد اقوامِ عالم کا رجحان امن کی طرف رہا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایٹمی ہتھیار اسی سرد جنگ کی دین ہیں اور اگر یہ تمام ہتھیار ان زمانوں میں استعمال کیے جاتے تو اس کرہ ارض کا وجود باقی نہ رہتا۔

صدام حسین کے کویت پرقبضہ چھوڑنے کے بعد نیو ورلڈ آرڈر آیا۔ امریکا اس وقت پوری دنیا میں واحد سپر پاور تھا۔ امریکا کی پاورکے علاوہ یا تو یورپین یونین یا پھر اقوامِ متحدہ کی نیٹو فورس تھی، جو ایک بہت بڑا فوجی اتحاد تھا۔

ان زمانوں سے چین کے راستے کھول دیے گئے۔ چین کو اپنی منڈی میں بغیر ٹیرف کے آنے کی اجازت دی گئی اور WTO کے نام پر آزاد تجارت دنیا میں متعارف کروائی گئی۔ امریکا کے اندر صنعت کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ چین، امریکا کو چین سے ایکسپورٹ ہوئی اشیاء بہت سستے داموں بیچ رہا تھا۔

دوسری طرف امریکا کے لیبر اپنا ہنر تبدیل کر رہے تھے۔ امریکا ایڈوانس ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سب سے آگے تھا۔ چین نے بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنے قدم جمائے۔ چین نے گارمنٹس کا کام بنگلا دیش کو منتقل کردیا۔ اب چین ایلون مسک اور جاپان کی آٹوانڈسٹری کو بھی پیچھے چھوڑ رہی ہے۔

امریکا کی ترقی کا راز وہ تارکین وطن تھے یا پھر وہ ہنرمند لوگ جو امریکا کی ضرورت تھے۔ ہر سال لوگ امریکا جاتے، وہاں کی شہریت ان کو حاصل ہوتی، مگر ان مہاجرین اور خاص کر ایشیاء کے لوگوں سے امریکا کے مقامی لوگ خوش نہ تھے۔

1995 سے اب تک کے سال گلوبلائزیشن کا دور ہے جس کو ہم گلوبل آرڈر بھی کہتے ہیں، جب بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کے قوانین سے بتدریج اہم ہوتے جا رہے تھے۔1990 میں پوری دنیا کی شرح نمو بائیس ہزار ارب ڈالر تھی وہ 2025 بڑھ کر 117 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

یہ ایک بہت بڑا اضافہ ہے جس کی بنیادی وجہ آزاد تجارت ہے اور اب مصنوعی تجارت نے اسے مزید فروغ دینا ہے۔ اس ارتقاء کے دوران نیو ورلڈ آرڈر کے نظریے کا ایک سال پہلے یعنی ٹرمپ حکومت کے آنے سے خاتمہ ہوا۔ کینیڈا کے وزیرِاعظم کے بقول Rapture آجاتا ہے۔

یہ بات انھوں نے ڈیوس میں January 22, 2026 میں کی۔ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس متعارف کروایا جس میں پاکستان نے بھی شرکت کی،کیونکہ ہمارے مخصوص جغرافیائی حقائق کے باعث ہمارے پاس اورکوئی راستہ بھی نہ تھا۔

جب ہندوستان کی طرف Existentialist خطرات ہوں تو ہم نے اپنی جنگی مہارت سے امریکا کو یہ باورکروایا کہ وہ ہمیں نظرانداز نہیں کرسکتا اور یہ بھی سمجھایا کہ ہم ہندوستان سے زیادہ ان کے مفاد میں ہیں اور ساتھ ہی ہم نے چین کے ساتھ اپنی اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کو برقرار رکھا۔

رواں سال ہی میں امریکا میں مڈٹرم انتخابات ہوںگے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بتدریج کمی ہو رہی ہے جس کے نتائج یہ نکل سکتے ہیں کہ کانگریس اور سینیٹ میں ان کی ری پبلیکن پارٹی اپنے اکثریت کھو سکتی ہے۔ نتیجتاً وہ امریکا کے مضبوط صدر نہیں رہیں گے۔

اس طرح عدالت بھی ٹرمپ کے خلاف یہ فیصلہ صادرکرسکتی ہے کہ محصول یا ٹیکس عائد کرنا یعنی (Tariff Imposition) صدر ٹرمپ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ امریکا کے اندر ٹرمپ کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے اور ان مختلف ٹیرف کے باعث اگر امریکا کی معیشت پرکوئی منفی اثر پڑا یا بے روزگاری میں اضافی ہوتا ہے تو یقیناً ٹرمپ کے لیے مسائل بڑھیں گے، اس وقت امریکا جو خود عالمی تنہائی کا شکار ہے، اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہرِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ان پالیسیز کی وجہ سے ڈالرکی بین الاقوامی حیثیت کمزور پڑسکتی ہے۔ یورپین یونین کی صدر Ursula von der Leyen ہندوستان پہنچی ہوئی تھیں اور ہندوستان کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کر رہی تھیں۔

دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم چین پہنچ گئے اور یہی روش برطانیہ نے بھی اپنائی اور ساتھ ہی جرمنی اور فرانس نے بھی۔دنیا کے حالات انتہائی عجیب اورکشیدہ ہیں۔ امریکا جو نیٹوکا ممبر ہے، عین اس وقت نیٹوکو اندر سے کمزورکررہا ہے، جب نیٹو روس سے ساتھ ٹکراؤ میں ہے۔

پھر موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، روس اس بیانیے میں یورپ کے ساتھ کھڑا ہوا ہے کہ امریکا کوگرین لینڈ پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔ ہوا کے اس بدلتے رخ نے ٹرمپ کو اس بات کی تردید کرنے پر مجبورکردیا کہ اس کا گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

نیو ورلڈ آرڈر اور اقوامِ متحدہ کا وجود اور افادیت اب بے مصرف ہوئی جب امریکا نے وینز ویلا کے صدرکو ایک آپریشن کے تحت گرفتار کیا۔ امریکا کے پاس اقوامِ متحدہ کی کوئی قرارداد نہیں تھی۔ امریکا کی خود اعتمادی مزید بڑھی،کیونکہ چین اور روس وینز ویلا سے بہت دور تھے اور نہ ہی وہ اس معاملے میں کوئی مدد کرسکے۔

وینزویلا کے معاملے میں ان کی اپنی فوج بھی خاموش تھی۔ اسی طرح امریکا ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔ اس منظر نامے میں ایران کی مدد بھی مشکل ثابت ہوگی۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، لٰہذا حالات کا تعین نہیں کیا جاسکتا کہ آگے کیا ہوگا؟ اگر امریکا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو Rapture مزید گہرا ہوگا۔

اسرائیل کی غزہ کی بربریت پر یورپی یونین کونسل نے پہلی مرتبہ آواز اٹھائی۔ ایران کے معاملے میں یورپی یونین امریکا کے ساتھ نہ سہی لیکن دور بھی نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے امریکا کو ایران کے خلاف نہ ہی اپنی فضا اور نہ ہی اپنی زمین استعمال کرنے دی نہ ہی ہونے دیں گے۔

اس بدلتی دنیا کے لیے معاشی اور جنگی اعتبار سے یہ چند مہینے بہت اہم ہیں۔ اس وقت پاکستان اپنے مفادات کی پیشِ نظر آگے بڑھ رہا ہے اور یہ حکمتِ عملی ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد کا حصہ نہیں بنا اور نہ ہی پاکستان اپنی فضا اور زمین ایران کے خلاف استعمال ہونے دے گا۔

ایران جس روش کے ساتھ چل رہا ہے، اسے چلنے نہیں دیا جائے گا۔ ایران کے گرد گھیرا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ موجودہ ایران، پاکستان کے مفاد میں ہے، مگر ایران کی بدلتی صورتحال کا ہمیں بغور جائزہ لینا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیو ورلڈ ا رڈر امریکا کو امریکا کی امریکا کے دنیا میں ایران کے ٹرمپ کے کے ساتھ کے خلاف رہا ہے نے بھی رہی ہے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران