ڈھاکا میں چوتھی میڈان پاکستان نمائش کے انعقاد میں تعاون کرینگے، پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزی بیشن انڈسٹری کے بانی چیئرمین خورشید برلاس نے گزشتہ روزبنگلہ دیش میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر سے ڈھاکہ میں ملاقات کی۔ دوران گفتگو بانی چیئرمین خورشید برلاس نے گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والی تیسری میڈ ان پاکستان نمائش جو کہ23 سے27 ستمبرانٹرنیشنل کنونشن سٹی ڈھاکہ میںٹیکسٹائل انڈسٹری،فوڈ پراڈکٹس، صارفین کی مصنوعات، جوتے،گھریلو سامان،ٹائلیں اور سیرامکس، جواہرات اور زیورات،کھیلوں کا سامان، خدمات فراہم کرنے والے،فیشن اور فیبرکس،سیاحت اور دستکاری کی مصنوعات اور دیگر شعبوں سے وابستہ نمائش میں حصہ لیا۔بانی چیئرمین خورشید برلاس نے بتایا ایونٹ کامقصد پاکستانی مصنوعات کو بنگلہ دیش میں متعارف کروانا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو بنگلہ دیش میں بہت پسند کیا گیا۔ چوتھی میڈ ان پاکستان نمائش جو کہ6 سے 10 اکتوبر کوانٹرنیشنل کنونشن سٹی بسوندھرا (آئی سی سی بی) ڈھاکہ میں منعقد ہو رہی ہے۔ پاکستانی خواتین کاروباری شخصیات بنگلہ دیش کی ترقی پذیر ٹیکسٹائل انڈسٹری سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں جبکہ بنگلہ دیشی کاروباری خواتین پاکستان کی بڑھتی ہوئی ریٹیل مارکیٹ میں نئے صارفین تلاش کر سکتی ہیں۔ ہم پہلے سے زیادہ مطمئن ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ نمائش بھی ریکارڈ بزنس کرے گی۔ پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعت، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ ٹریڈ کو بڑھانے اور نئے راستے تلاش کرنے کے لیے نمائشوں کا انعقاد بہت ضروری ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ہم ان تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو تجارت اور کاروباری صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم آپ کو تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ کہ نمائش کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ آخر میں پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزی بیشن انڈسٹری کی جانب سے بانی چیئرمین نے پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر کو کو نمائش کے حوالے سے دستاویزات بھی پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر بنگلہ دیش میں بانی چیئرمین
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔