بھارت میں اونچی اور نچلی ذات کے ہندوؤں میں جنگ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260201-03-4
ہندوستان، جو کبھی گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار سمجھا جاتا تھا، آج مذہبی عدم رواداری کے نئے دور سے گزر رہا ہے۔ مگر اب یہ عدم رواداری صرف مسلمانوں، عیسائیوں یا سکھوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک نئی حقیقت ابھر رہی ہے: ہندوؤں کے اندر ہی ذات پات کی لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے، جہاں اونچی ذات کے ہندو (جیسے برہمن، راجپوت، بنیا) نچلی ذات کے ہندوؤں (دلت، OBC) پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے حالیہ احکامات نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جو ذات پات کے فرق کو نظر انداز کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اونچی ذات کے ہندوؤں نے احتجاج کیا، جبکہ بی جے پی مخالف ہندو مذہبی رہنماؤں پر تشدد کی وارداتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ان واقعات کی روشنی میں ہندوستان میں مذہبی عدم رواداری اب ذات پات کی خانہ جنگی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یو جی سی نے جنوری 2026 میں ’’پروموشن آف ایکوئٹی ریگولیشنز 2026‘‘ جاری کیے، جو ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز میں ذات پر مبنی امتیازی سلوک کے خاتمے کا حکم دیتے ہیں۔ ان نئے ضابطوں کے تحت SC، ST، OBC، خواتین اور معذور افراد کے لیے ایکوئل اپرچونیٹی سینٹرز قائم کرنے، شکایات کا فوری ازالہ، اور نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ نافذ نہ کرنے پر یونیورسٹیوں کی یو جی سی رکنیت ختم، ڈگری پروگرام روکنے اور جرمانے کی دھمکی دی گئی۔ یو جی سی کا مقصد روہت ویملہ اور پائل تادوی جیسے خودکشی کے کیسز کو روکنا ہے، جہاں ذات کی وجہ سے طلبہ ہلاک ہوئے۔
2019-2024 کے درمیان ذات پر مبنی شکایات 118 فی صد بڑھیں، جو اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ مگر ان احکامات پر اونچی ذات کے ہندوؤں نے شدید احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا اور فیس بک پوسٹس میں بی جے پی کو ’’اونچی ذاتوں سے نفرت‘‘ کا الزام لگایا گیا، جہاں یو جی سی کو ’’اونچی ذات ہندو مردوں کو ہیل بنانے والا‘‘ قرار دیا گیا۔ چھتیس گڑھ میں او بی پی کوٹا بڑھانے پر اونچی ذات کے نوجوان سڑکوں پر جھاڑو لگا کر احتجاج کرتے نظر آئے، جو ذات کی پاکیزگی کی ذہنیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ منڈل کمیشن (1990) کے وقت بھی ایسے احتجاج ہوئے، جہاں نوجوانوں نے سرکاری املاک جلائیں۔ آج بھی، یو جی سی کے ضابطے ’’اونچی ذاتوں پر ظلم‘‘ کہلاتے ہیں، جو ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے پروپیگنڈا ہے۔ اس تناظر میں، بی جے پی مخالف ہندو مذہبی رہنماؤں پر تشدد بڑھ گیا ہے۔ ہندوتوا گروپس، جو بی جے پی کے فٹ سولجرز ہیں، اب دلت اور قبائلی علاقوں میں مشنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مودی دور میں مسلمانوں کے بعد عیسائیوں پر تشدد بڑھا، مگر اب دلت ہندوؤں کو ہندو دھرم سے جوڑنے کی کوشش میں تشدد ہو رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں دلت عیسائیت یا بدھ مت قبول کرتے ہیں، جو اونچی ذاتوں کو ناقابل برداشت ہے۔ اونچی ذاتوں کے ذریعے نچلی ذاتوں پر ظلم کی مثالیں بے شمار ہیں۔ 2018 میں گجرات میں دلت موہش کو جینز اور موجری پہننے پر اونچی ذات والوں نے مارا، کیونکہ وہ ’’اونچی ذات کی برابری‘‘ کر رہا تھا۔ دلت مزدوروں کو کم اجرت یا بالکل نہ دینے پر تشدد کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ یونینز جوائن کریں یا تعلیم حاصل کریں۔ ہجوم یا ماب وائلنس عام ہے، جہاں زمیندار دلتوں کو سزا دیتے ہیں۔ اقلیت رائٹس گروپ کے مطابق، دلتوں پر موب تشدد روزمرہ ہے۔
یو جی سی احکامات کے بعد یونیورسٹی کیمپس پر تناؤ بڑھ گیا۔ ویڈیوز میں ’’ایکوئٹی اسکواڈز‘‘ کو اونچی ذات ہندو مردوں کو رپورٹ کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی اینٹی کنورژن لاز، جو ہندوتوا وجیلنٹی گروپس نافذ کرتے ہیں، دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو دھمکیاں دیتی ہیں۔ کیرالہ میں بی جے پی دلت عیسائیوں کو ہندو بنانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر تشدد سے۔ یہ صورتحال بھارت کی سماجی ساخت کو توڑ رہی ہے۔ ہندوتوا، جو بی جے پی کا ایجنڈا ہے، اب ذات پات کو استعمال کر کے ووٹ بینک بنانے پر تل ہے۔ مگر یو جی سی جیسے اقدامات نچلی ذاتوں کو بااختیار بنا رہے ہیں، جو اونچی ذاتوں کو برداشت نہیں۔ ہندوؤں کے اندر خانہ جنگی۔ دلتوں کی بڑھتی آگاہی، بہوجن سماج پارٹی جیسی پارٹیوں کی مقبولیت، یہ سب ثبوت ہیں کہ مذہبی عدم رواداری ذات پات کی لڑائی بن چکی ہے۔ اگر بی جے پی اور ہندوتوا عدم روک تھام نہ کی تو ہندوستان میں سول وار کا خطرہ ہے۔ یو جے سی احکامات جیسے اقدامات ضروری ہیں، مگر ان پر احتجاج اور تشدد بھارت میں برہمن راج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہندوستان کو اگر واقعی علاقائی طاقت بننا ہے تو اس کو ذات پات سے ماورا ہونا ہوگا، ورنہ گاندھی کا خواب چور چور ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ذات کے ہندوو ں اونچی ذات کے عدم رواداری اونچی ذاتوں ذات کے ہندو نچلی ذات یو جی سی بی جے پی ذات پات رہا ہے رہی ہے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔